
الٰہ آباد ہائی کورٹ، تصویر آئی اے این ایس
الٰہ آباد ہائی کورٹ نے پریاگ راج کمشنریٹ میں پولیس کی جانب سے اختیارات کے غلط استعمال اور غیر قانونی حراست معاملے میں سخت موقف اختیار کیا ہے۔ عدالت نے ریاستی حکومت حکم دیا ہے کہ وہ متاثرہ شخص کو 6 ہفتے کے اندر 2 لاکھ روپے کا معاوضہ دے۔ بعد میں یہ رقم ذمہ دار اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس، بارہ، پریاگ راج کی تنخواہ سے تادیبی تحقیقات کے بعد وصولی جائے۔
Published: undefined
یہ حکم جسٹس سدھارتھ اور جسٹس ونے کمار دویدی کی ڈویژن بنچ نے منصور احمد عرف للو کی جانب سے داخل ہیبیس کارپس کی عرضی پر دیا ہے۔ عدالت نے سماعت کے دوران پایا کہ عرضی گزار کو 19 مارچ 2026 کو حراست میں لیا گیا تھا۔ پولیس نے مناسب قانونی طریقۂ کار پر عمل کیے بغیر اسے براہ راست جیل بھیج دیا تھا۔ قانونی طور پر عرضی گزار کو ذاتی مچلکہ بھرنے کا موقع دیا جانا چاہیے تھا۔ قوانین پر عمل کیے بغیر 8 دنوں تک جیل میں رکھنا غیر قانونی مانا گیا ہے۔
Published: undefined
ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ مستقبل میں کسی بھی شخص کو حراست میں لینے پر ذاتی مچلکے پر ہی رہا کیا جائے۔ اگر کوئی شخص ذاتی مچلکہ دینے سے انکار کرتا ہے تو اس کی تحریری یا آڈیو-ویزول ریکارڈنگ ضروری ہوگی۔ ان احکامات کی خلاف ورزی ہونے پر روزانہ 25000 روپے کا معاوضہ دیا جائے اور قصوروار افسران کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے۔
Published: undefined
عدالت نے ذاتی مچلکہ بھرنے کا موقع نہ دیے جانے کو حیران کن قرار دیا۔ ساتھ ہی کہا کہ کمشنریٹ میں پولیس افسران کو دیے گئے مجسٹریٹ کے اختیارات کا بڑے پیمانے پر غلط استعمال ہو رہا ہے۔ عدالت نے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ صرف پریاگ راج کمشنریٹ میں ہی رواں سال اب تک 721 لوگوں کو اسی طرح غیر قانونی طور پر حراست میں لیا گیا ہے۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined