قومی خبریں

’ملک پہلے، باقی سب بعد میں‘، قومی سلامتی مشیر اجیت ڈووال نے جین-زی کو دیا خاص پیغام

اجیت ڈووال نے لوک مانیہ تلک کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’’وہ نہ صرف ایک آزادی پسند تھے، بلکہ ایک سماجی مصلح اور فلسفی بھی تھے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>تصویر سوشل میڈیا</p></div>

تصویر سوشل میڈیا

 

قومی سلامتی کے مشیر (این ایس اے) اجیت ڈووال نے ہفتہ (یکم اگست) کے روز ملک کے نوجوانوں یعنی جین-زی سے اپیل کی کہ وہ قوم کے مفاد کو سب سے مقدم رکھتے ہوئے فرض، قربانی اور قومی خدمت کے جذبہ کے ساتھ آگے بڑھیں۔ انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ ہندوستان کا عزم اسی وقت حقیقت بنے گا جب ہر شہری اسے اپنی ذاتی ذمہ داری سمجھے۔ پونے میں ’لوک مانیہ تلک نیشنل ایوارڈ 2026‘ حاصل کرنے کے بعد ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈووال نے یہ بیان دیا۔ انھوں نے کہا کہ نوجوان نسل کو صرف ملک کے مفاد میں کام کرنے کا عزم کرنا چاہیے اور اپنے چھوٹے اور مختصر مدتی مفادات کو نظر انداز کرنا چاہیے۔

ڈووال نے کہا کہ جین-زی طبقہ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ’’آج کے نوجوانوں کو خود کو پوری طرح وقف کر دینا چاہیے اور سوچنا چاہیے کہ وہ صرف ملک کے مفاد کے لیے کام کریں گے۔ انہیں اپنے چھوٹے ذاتی مفادات کو چھوڑنے کے لیے تیار رہنا چاہیے، اور اگر ایسی کوئی بات سامنے بھی آئے تو انہیں اسے نظر انداز کر دینا چاہیے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ہندوستان اپنی تاریخ کے ایک اہم دور سے گزر رہا ہے اور اسے موجودہ موقع کو ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہیے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’ہمارے ملک کی تاریخ میں موقع کی ایک کھڑکی ہے۔ ہم اسے کھونے کا خطرہ مول نہیں لے سکتے۔ اس وقت ہماری ترجیح ملک بنانا ہے۔‘‘ ہندوستان کے مستقبل پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ڈووال نے کہا کہ ملک اپنے مشن میں کامیاب ہوگا اور اپنی تاریخ میں ایک نیا باب لکھے گا۔

اجیت ڈووال نے نوجوانوں کی سوچ کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’نوجوان شاید سوچتے ہیں ہندوستان ہمیشہ سے ایسا ہی تھا۔ نوجوان شاید سوچتے ہیں کہ آزادی کا مطلب وہ کرنا ہے جو اُن کی مرضی ہو۔ حالانکہ آزادی کا مطلب یہ قطعی نہیں ہے۔ آزادی صرف مہاتما گاندھی کے جواب میں نہیں ملی، بلکہ ان کی وجہ سے بھی ملی جنھوں نے آزادی کے لیے اپنی جان دی، جنہوں نے اس کے لیے جدوجہد کی... مثلاً لوک مانیہ تلک۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’ایسے لوگوں میں درد تھا... وہ بولنا چاہتے تھے۔ تلک نے انہیں ایسا کرنے کی طاقت دی اور ان میں ایک نئی ’بیداری‘ پیدا کی۔‘‘

ڈووال نے لوک مانیہ تلک کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’’وہ نہ صرف ایک آزادی پسند تھے، بلکہ ایک سماجی مصلح اور فلسفی بھی تھے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ جب پونے میں طاعون پھیلا اور ان کے 21 سالہ بیٹے کی موت ہو گئی تو تلک شہر چھوڑ کر نہیں گئے بلکہ وہیں رک گئے۔ ڈووال نے کہا کہ آج کل لوگ اپنے حقوق کی بات کرتے ہیں، لیکن وہ نہیں جانتے کہ اگر حقوق کا غلط استعمال کیا گیا تو ان لوگوں کو کتنا درد ہوگا جنہوں نے اس کے لیے سب کچھ قربان کر دیا۔ تلک نے صرف یہ نہیں کہا تھا کہ ’سوراج میرا پیدائشی حق ہے اور میں اسے لے کر رہوں گا‘، بلکہ وہ چاہتے تھے کہ ہر شہری بھی ایسی ہی سوچ رکھے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔