قومی خبریں

آسام انتخابات: کانگریس کا منشور جاری، ملکارجن کھڑگے کے 5 بڑے وعدے، بی جے پی حکومت پر شدید تنقید

آسام میں کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے انتخابی منشور جاری کرتے ہوئے خواتین، صحت، زمین اور بزرگوں کے لیے پانچ بڑی ضمانتوں کا اعلان کیا اور بی جے پی حکومت پر بدعنوانی اور دھوکے کے الزامات عائد کیے

<div class="paragraphs"><p>ملکارجن کھڑگے / تصویر آئی این سی</p></div>

ملکارجن کھڑگے / تصویر آئی این سی

 

آسام میں آئندہ اسمبلی انتخابات کے پیش نظر سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں اور اسی سلسلے میں کانگریس نے اپنے انتخابی منشور کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ ملکارجن کھڑگے نے ریاست کے حلقہ نوبوئچہ میں ایک بڑے عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نہ صرف پارٹی کے وعدے پیش کیے بلکہ حکمراں جماعت پر سخت حملے بھی کیے۔

اپنے خطاب کے آغاز میں انہوں نے مختلف رہنماؤں اور امیدواروں کا ذکر کرتے ہوئے عوام، کسانوں، خواتین، نوجوانوں اور میڈیا نمائندوں کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے اپنا منشور عوام سے مشورے کے بعد تیار کیا ہے تاکہ اقتدار میں آنے کے بعد لوگوں کی حقیقی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔

Published: undefined

کھڑگے نے آسام کی موجودہ حکومت اور وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ انہوں نے عوام کے ساتھ ’دھوکہ‘ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت بدعنوانی، زمینوں پر قبضے اور وسائل کے غلط استعمال میں ملوث ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ سچائی کے ساتھ کھڑے ہوں گے یا دھوکے باز قیادت کے ساتھ۔

انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ بار بار آسام آ کر ریاستی حکومت کی تعریف کرتے ہیں مگر حقیقت میں ترقی کے دعوے زمینی سطح پر نظر نہیں آتے۔ انہوں نے سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کے دور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت شمال مشرقی ریاستوں کے لیے زیادہ بہتر کام ہوا تھا۔

Published: undefined

کھڑگے نے اپنے خطاب میں 5 بڑی ضمانتوں کا اعلان کیا، جنہیں انہوں نے کانگریس کی بنیادی ترجیحات قرار دیا۔ پہلی ضمانت کے تحت ہر خاتون کے بینک کھاتے میں بغیر کسی شرط کے ماہانہ مالی مدد فراہم کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی خواتین کو کاروبار شروع کرنے یا بڑھانے کے لیے پچاس ہزار روپے تک کی مدد دی جائے گی۔

دوسری ضمانت میں ہر خاندان کے لیے پچیس لاکھ روپے تک کا کیش لیس صحت بیمہ شامل ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کانگریس ایسی اسکیمیں پہلے بھی مختلف ریاستوں میں نافذ کر چکی ہے اور آسام میں بھی اسے عملی جامہ پہنایا جائے گا۔

تیسری ضمانت کے طور پر انہوں نے کہا کہ ایک مشہور گلوکار کے معاملے میں سو دن کے اندر انصاف فراہم کیا جائے گا اور اس کی مکمل جانچ کرا کے ذمہ داروں کو بے نقاب کیا جائے گا۔

Published: undefined

چوتھی ضمانت زمین کے حقوق سے متعلق ہے، جس کے تحت دس لاکھ مقامی افراد کو مستقل زمین کا حق (پٹہ) دینے کا وعدہ کیا گیا ہے تاکہ انہیں بار بار سرکاری دفاتر کے چکر نہ لگانے پڑیں۔ کھڑگے نے کہا کہ زمین کے مسائل ریاست میں تنازعات کی بڑی وجہ ہیں اور کانگریس اسے مستقل طور پر حل کرے گی۔

پانچویں ضمانت بزرگ شہریوں کے لیے ہے، جس کے تحت ہر ماہ ایک ہزار دو سو پچاس روپے کی مالی مدد فراہم کی جائے گی۔

کھڑگے نے کہا کہ کانگریس کا منشور صرف وعدوں تک محدود نہیں بلکہ اس میں نوجوانوں، کسانوں، مزدوروں اور چائے باغات کے کارکنوں سمیت ہر طبقے کا خیال رکھا گیا ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ایسی حکومت کا انتخاب کریں جو ان کے مفاد میں کام کرے۔

Published: undefined

انہوں نے بی جے پی پر الزام لگایا کہ اس کی حکومت نے آسام کے نظام کو بدعنوانی میں ڈبو دیا ہے اور ہر سطح پر رشوت کا چلن عام ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ڈبل انجن‘ حکومت کا دعویٰ دراصل ’ڈبل لوٹ‘ میں بدل گیا ہے۔ کھڑگے نے یہ بھی الزام لگایا کہ موجودہ حکومت لوگوں میں خوف اور دہشت پیدا کر رہی ہے اور مخالفین کو دبانے کے لیے سرکاری طاقت کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو ڈرنے کی ضرورت نہیں بلکہ جمہوری طریقے سے اپنی آواز بلند کرنی چاہیے۔

انہوں نے راہل گاندھی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مشکل حالات میں بھی عوام کے درمیان جا کر ان کے مسائل کو سمجھنے کی کوشش کی، جبکہ دیگر رہنما ایسا کرنے سے گریز کرتے رہے۔

Published: undefined

اپنے خطاب کے اختتام پر کھڑگے نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ووٹنگ کے دن گھروں سے نکل کر کانگریس کے حق میں ووٹ دیں اور ایک مضبوط، شفاف اور عوام دوست حکومت قائم کریں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس ہی وہ جماعت ہے جو ملک کو متحد رکھ سکتی ہے اور عوام کے مسائل کو سنجیدگی سے حل کر سکتی ہے۔

یہ جلسہ آسام کی انتخابی سیاست میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جہاں کانگریس نے اپنے منشور کے ذریعے براہ راست عوام سے جڑنے اور بی جے پی کو چیلنج دینے کی کوشش کی ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined