
ہریانہ میں نائب سینی کی قیادت والی بی جے پی حکومت نے اپنے 2 سال مکمل کر لیے ہیں۔ اس موقع پر کانگریس نے وزیر اعلیٰ نائب سینی کو ان کے ذریعہ کیے گئے وعدوں کو یاد دلایا ہے اور الزام عائد کیا ہے کہ انھوں نے کسی بھی وعدہ کو وفا نہیں کیا۔ ہریانہ میں کانگریس قانون ساز پارٹی کے لیڈر بھوپندر سنگھ ہڈا نے میڈیا اہلکاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’وزیر اعلیٰ کا عزم تھا کہ ہریانہ کی خواتین کو ہر ماہ 2100 روپے دیے جائیں گے، لیکن پھر بہت ساری شرطیں لگا کر خواتین کو اس سے محروم کر دیا۔‘‘ ایک دیگر وعدہ کی یاد دلاتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ’’انھوں نے وعدہ کیا تھا ہریانہ میں 10 جدید صنعتی شہر بنائیں گے، جہاں گاؤں کے نوجوانوں کو روزگار دیا جائے گا، لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔‘‘
ہریانہ کانگریس صدر راؤ نریندر سنگھ نے بھی سینی حکومت کے 2 سال مکمل ہونے پر ان کی ناکامیوں کا ذکر کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’بی جے پی حکومت نے طبی نظام سے متعلق بڑی بڑی باتیں کیں، لیکن آج حالات یہ ہیں کہ اسپتالوں میں ڈاکٹر نہیں ہیں، حتیٰ کہ دوائیاں اور ایمبولنس تک نہیں ہیں۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’حکومت نے وعدہ کیا تھا ہر ضلع میں میڈیکل کالج بنائے جائیں گے، ڈائلیسس سنٹر اور آئی سی یو سنٹر بنیں گے، لیکن آج زمین پر کچھ بھی نہیں ہے۔‘‘
ہریانہ کی بی جے پی حکومت کو راؤ نریندر نے طبی محاذ پر پوری طرح ناکام قرار دیا۔ انھوں نے حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ ’’بی جے پی کا وعدہ تھا آیوشمان یوجنا میں لوگوں کو 10 لاکھ روپے تک کا مفت علاج اور 70 سال سے اوپر کے لوگوں کو 5 لاکھ روپے اضافی مفت علاج ملے گا، لیکن آج اسپتالوں میں اس منصوبہ کے تحت علاج دینا بند کر دیا ہے۔‘‘ انھوں نے بتایا کہ ایسا اس لیے ہوا کیونکہ انھیں حکومت سے فنڈ ہی نہیں مل رہا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔