تصویر آئی این سی
نئی دہلی: کانگریس نے ایس آئی آر سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت نے اگرچہ اس عمل کی آئینی حیثیت کو تسلیم کر لیا ہے، لیکن فیصلے نے کئی نئے سوالات بھی کھڑے کر دیے ہیں۔ کانگریس لیڈر ابھشیک منو سنگھوی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے پیرا 97 سے پیرا 101 تک غور سے پڑھنے پر واضح ہوتا ہے کہ انتخابی عمل میں کئی سنگین خامیاں موجود تھیں، جن میں بہتری صرف اس لیے ممکن ہو سکی کیونکہ سیاسی جماعتوں اور غیر سرکاری تنظیموں نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا۔
Published: undefined
ابھشیک منو سنگھوی نے کہا کہ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ واضح کیا ہے کہ شہریت کے معاملے میں حتمی فیصلہ لینے کا اختیار الیکشن کمیشن کے پاس نہیں ہے۔ ان کے مطابق شہریت ایک قانونی معاملہ ہے، جس پر فیصلہ کرنے کی مجاز اتھارٹی وزارت داخلہ یا متعلقہ بااختیار ادارے ہیں۔ الیکشن کمیشن صرف انتظامی سطح پر اس معاملے کو دیکھ سکتا ہے۔
کانگریس نے سوال اٹھایا کہ اگر شہریت کا حتمی فیصلہ مجاز اداروں کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے تو پھر مختلف ریاستوں میں کروڑوں لوگوں کے نام ووٹر فہرستوں سے کیسے ہٹائے گئے۔ پارٹی کے مطابق تقریباً سات کروڑ پچاس لاکھ افراد کے ووٹنگ حقوق ایسے ادارے کے ذریعے متاثر ہوئے جسے اس حوالے سے مکمل اختیار حاصل نہیں تھا۔
Published: undefined
ابھشیک منو سنگھوی نے کہا کہ بہار میں تقریباً 65 لاکھ نام ووٹر فہرستوں سے خارج کیے گئے تھے، جنہیں دوبارہ شامل کرنے اور اس کی وجہ واضح کرنے کا عمل بھی سیاسی جماعتوں اور غیر سرکاری تنظیموں کی قانونی کوششوں کے بعد ممکن ہو سکا۔ انہوں نے کہا کہ مختلف ریاستوں میں سیاسی جماعتوں کو عدالتی کارروائی کا حصہ بنایا گیا، جبکہ بوتھ سطح کے نمائندوں اور قانونی معاونین کو شامل کر کے طریقۂ کار سمجھایا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انتخابی عمل جلدبازی میں خامیوں کے ساتھ شروع کیا گیا۔
کانگریس لیڈر نے مزید کہا کہ اگر سیاسی جماعتیں، سماجی ادارے اور دیگر تنظیمیں مداخلت نہ کرتیں تو یہ خامیاں برقرار رہتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے ان خامیوں پر براہ راست کوئی سخت تبصرہ نہیں کیا۔
Published: undefined
کانگریس نے ایس آئی آر کے لیے مقرر کم مدت کو بھی بنیادی مسئلہ قرار دیا۔ پارٹی کے مطابق بہار میں چار ماہ اور مغربی بنگال میں پانچ ماہ کی مدت دی گئی، جو اتنے بڑے عمل کے لیے ناکافی تھی۔ کانگریس نے یہ بھی کہا کہ کئی مواقع پر ووٹر فہرست سے نام پہلے ہٹا دیے جاتے ہیں اور فیصلہ بعد میں آتا ہے، جبکہ اس دوران انتخابات بھی مکمل ہو جاتے ہیں، مگر اس پہلو پر بھی الیکشن کمیشن کی جواب دہی طے نہیں کی گئی۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined