قومی خبریں

ریوا میں ٹاٹا پاور کے مجوزہ جوہری توانائی منصوبے پر سوال، گرام سبھا کی مخالفت کے باوجود منظوری دینے کا الزام

مدھیہ پردیش کے ریوا میں ٹاٹا پاور کے مجوزہ جوہری توانائی منصوبے پر کانگریس نے سوال اٹھائے ہیں۔ پارٹی کا الزام ہے کہ گرام سبھا کی مخالفت کے باوجود ڈرلنگ کی اجازت دی گئی

<div class="paragraphs"><p>تصویر آئی اے این ایس</p></div>

تصویر آئی اے این ایس

 

بھوپال: مدھیہ پردیش کے ریوا ضلع میں ٹاٹا پاور کے مجوزہ جوہری توانائی منصوبے کے لیے ابتدائی ڈرلنگ کی اجازت پر کانگریس نے سوال اٹھائے ہیں۔ پارٹی نے الزام لگایا ہے کہ گرام سبھا کی مخالفت کے باوجود منصوبے کے لیے عدم اعتراض سرٹیفکیٹ (این او سی) جاری کیا گیا۔ کانگریس نے حکومت سے منظوری کے حالات واضح کرنے اور متعلقہ دستاویزات عام کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

مدھیہ پردیش اسمبلی میں قائد حزب اختلاف امنگ سنگھار نے پیر کو بھوپال میں پریس کانفرنس کے دوران یہ معاملہ اٹھایا۔ انہوں نے ایک روز قبل روزہوہی-سرئی کلا علاقے میں مجوزہ منصوبے کی جگہ کا دورہ کیا تھا اور وہاں احتجاج کرنے والے آدیواسیوں اور دیگر دیہی باشندوں سے ملاقات کی تھی۔

سنگھار نے سوال کیا کہ جب گرام سبھا نے واضح طور پر ڈرلنگ کی اجازت دینے سے انکار کردیا تھا تو این او سی کس بنیاد پر جاری کیا گیا؟ انہوں نے حکومت سے اس معاملے کی تفصیلات اور متعلقہ دستاویزات منظر عام پر لانے کا مطالبہ کیا۔

قائد حزب اختلاف کے مطابق، 3 ستمبر کو گرام سبھا نے متفقہ طور پر ڈرلنگ کی اجازت دینے سے انکار کردیا تھا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ گرام پنچایت نے 5 ستمبر کو خط کے ذریعے ضلع کلکٹر کو بھی اس فیصلے سے آگاہ کردیا تھا۔ اس کے باوجود 23 ستمبر کو این او سی جاری کردیا گیا، جس میں مبینہ طور پر 4 ستمبر کے ایک رضامندی نامے کا حوالہ دیا گیا ہے۔

سنگھار نے بتایا کہ سرپنچ کومل سنجے سنگھ نے 8 اکتوبر کو ڈویژنل کمشنر اور ضلع کلکٹر سے رابطہ کرکے مبینہ رضامندی نامے کی صداقت کی جانچ اور این او سی منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

مجوزہ منصوبے کے تحت 220، 220 میگاواٹ کی دو جوہری توانائی یونٹ قائم کرنے کی تجویز ہے۔ مقامی آدیواسی خاندان، چھوٹے کسان اور زرعی مزدور سلامتی، پانی کی دستیابی، زراعت پر انحصار کرنے والے روزگار اور ماحولیات پر ممکنہ اثرات کے خدشات کے باعث منصوبے کی مخالفت کررہے ہیں۔

سنگھار نے حکومت سے یہ بھی واضح کرنے کو کہا کہ آیا منصوبے کے لیے ماحولیاتی اثرات کا جائزہ (ای آئی اے)، زلزلے کے خطرات سے متعلق مطالعہ اور پانی کی دستیابی کا جائزہ مکمل کیا جاچکا ہے۔ انہوں نے آفات سے نمٹنے کی تیاریوں، مجوزہ ری ایکٹروں کے مقام اور حفاظتی دائرے میں آنے والے گاؤں اور خاندانوں کی تعداد کی تفصیلات بھی طلب کیں۔

انہوں نے احتجاج کے دوران آدیواسی خاتون وملہ کول کی موت کا ذکر کرتے ہوئے حکومت سے مظاہرین کے خدشات کو سنجیدگی سے لینے کی اپیل کی۔ سنگھار نے سوال کیا کہ جہاں آلودہ پانی اور مبینہ طور پر زہریلے کھانسی کے شربت سے اموات کے واقعات سامنے آتے ہیں، وہاں حکومت جوہری توانائی پلانٹ کی سلامتی کی ضمانت کیسے دے سکتی ہے؟

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔