قومی خبریں

اتراکھنڈ میں ایس آئی آر کی گڑبڑیوں کے خلاف کانگریس کا الیکشن کمیشن کے باہر دھرنا، افسران کو سونپا مکتوب

اتراکھنڈ میں ایس آئی آر کی گڑبڑیوں کے خلاف کانگریس رہنماؤں نے دہلی میں الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر دھرنا دیا۔ پارٹی نے ووٹر نام حذف کرنے میں بے ضابطگیوں کی شکایت کرتے ہوئے میمورنڈم سونپا

<div class="paragraphs"><p>سوشل میڈیا</p></div>

سوشل میڈیا

 

نئی دہلی: اتراکھنڈ میں ووٹر لسٹوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے دوران بے ضابطگیوں کے خلاف کانگریس کے سینئر رہنماؤں نے جمعرات کو نئی دہلی میں الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر دھرنا دیا اور نعرے لگائے۔ بعد میں کانگریس رہنماؤں نے کمیشن کے افسران کو اپنا مکتوب سونپا۔

کانگریس جنرل سکریٹری اور اتراکھنڈ کی پارٹی انچارج کماری سیلجا، ریاستی کانگریس کمیٹی کے صدر گنیش گوڈیال، کانگریس کے میڈیا شعبے کے سربراہ پون کھیڑا، قانون ساز پارٹی کے لیڈر یشپال آریہ کے علاوہ سینئر رہنما ہرک سنگھ راوت، پریتم سنگھ، قاضی نظام الدین اور گردیپ سپل الیکشن کمیشن کے دفتر پہنچے تھے۔

کانگریس رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ اتراکھنڈ میں ایس آئی آر کے نام پر بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں کی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک شخص پانچ سے زیادہ درخواستیں نہیں دے سکتا، لیکن ریاست میں ایک ہی شخص کے نام سے سیکڑوں اور ہزاروں درخواستیں دی جا رہی ہیں۔ پارٹی رہنماؤں نے ووٹروں کے نام حذف کرانے کی درخواستوں میں فرضی واڑہ کیے جانے کا بھی الزام لگایا۔

کانگریس رہنماؤں نے کہا کہ پارٹی نے دہلی میں الیکشن کمیشن کے دفتر پہنچنے سے قبل اتراکھنڈ میں بھی کمیشن کے دفتر کو میمورنڈم دیا تھا اور افسران سے ملاقات کی کوشش کی تھی۔ ان کے مطابق، کمیشن اقتدار میں بیٹھے لوگوں کے اشارے پر لوگوں کا حقِ رائے دہی چھیننے کا کام کر رہا ہے۔

کانگریس جنرل سکریٹری کماری سیلجا نے الزام لگایا کہ پارٹی رہنما کئی دنوں سے الیکشن کمیشن سے ملاقات کا وقت مانگ رہے تھے، لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔ اس کے بعد انہیں کمیشن کے دفتر پہنچ کر دھرنے پر بیٹھنا پڑا۔

سیلجا نے کہا کہ جمہوریت میں اپوزیشن کو اپنی بات رکھنے، سوال پوچھنے اور آئینی ادارے سے جواب طلب کرنے کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے کانگریس رہنماؤں کو الیکشن کمیشن کے افسران کے ساتھ ملاقات کرکے اپنی بات رکھنے کا موقع ملتا تھا، لیکن جمعرات کو انہیں کمیشن کے دفتر کے باہر بیریکیڈ کے پاس روک دیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ کانگریس رہنماؤں نے کمیشن سے کم از کم گیٹ کھول کر میمورنڈم قبول کرنے کی درخواست کی، لیکن انہیں باہر ہی روک دیا گیا اور بعد میں گیٹ کے باہر سے ہی میمورنڈم دینے کو کہا گیا۔ سیلجا نے سوال کیا کہ کیا اب ملک میں عوام کے حقوق سے متعلق سوالات بھی سلاخوں کے درمیان سے کیے جائیں گے؟

انہوں نے کہا کہ بڑی مشکل سے کمیشن کے دو افسران باہر آئے اور میمورنڈم قبول کیا۔ کانگریس نے ووٹر لسٹوں سے نام حذف کیے جانے، ووٹ کاٹے جانے اور شکایت کنندگان کی شناخت و شکایات کی بنیاد سے متعلق سوال اٹھائے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔