قومی خبریں

رام مندر نذرانہ تنازعہ: کانگریس کا چمپت رائے کے خلاف ایف آئی آر اور ایس آئی ٹی رپورٹ منظرِ عام پر لانے کا مطالبہ

کانگریس نے رام مندر نذرانہ تنازعہ پر چمپت رائے کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے، ایس آئی ٹی رپورٹ جاری کرنے، ٹرسٹ کو تحلیل کرنے اور وزیر اعظم نریندر مودی سے خاموشی توڑ کر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے

<div class="paragraphs"><p>ویڈیو گریب</p></div>

ویڈیو گریب

 

نئی دہلی: کانگریس نے ایودھیا کے رام مندر میں نذرانے سے متعلق سامنے آئے تنازعہ پر مرکزی اور اتر پردیش حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) کی رپورٹ فوری طور پر عوام کے سامنے پیش کی جائے اور شری رام جنم بھومی تیرتھ کشیتر ٹرسٹ سے مستعفی ہو چکے چمپت رائے کے خلاف ایف آئی آر درج کر کے غیر جانبدارانہ کارروائی کی جائے۔

Published: undefined

کانگریس کے سوشل میڈیا شعبے کی سربراہ سپریا شرینیت نے نئی دہلی میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ شری رام جنم بھومی تیرتھ کشیتر ٹرسٹ کوئی عام ادارہ نہیں بلکہ اس کا اعلان وزیر اعظم نریندر مودی نے فروری 2020 میں کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرسٹ کے ذمہ دار عہدوں پر ایسے افراد کو تعینات کیا گیا جو طویل عرصے سے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ سے وابستہ رہے ہیں، اس لیے اس معاملے میں حکومت اپنی ذمہ داری سے الگ نہیں ہو سکتی۔

سپریا شرینیت نے الزام لگایا کہ جن لوگوں کو رام مندر کی تعمیر، انتظام اور عقیدت مندوں کے نذرانوں کی حفاظت کی ذمہ داری سونپی گئی، انہی کے دور میں بے ضابطگیاں سامنے آئیں، جس سے لاکھوں عقیدت مندوں کے اعتماد کو شدید ٹھیس پہنچی۔ انہوں نے کہا کہ اگر 40 دن کے دوران 70 مرتبہ چوری کے واقعات ہوئے تو یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ گزشتہ ساڑھے پانچ برسوں میں مجموعی طور پر کتنی بے ضابطگیاں ہوئیں۔

Published: undefined

کانگریس نے دعویٰ کیا کہ اب تک صرف اسی لاکھ روپے کی برآمدگی کی اطلاع سامنے آئی ہے، جبکہ باقی رقم کے بارے میں کوئی واضح معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ پارٹی نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ نگرانی کے کیمروں کی ریکارڈنگ کا بیک اپ کیوں محفوظ نہیں رکھا گیا، ملازمین کی بھرتی کس طریقہ کار کے تحت ہوئی، اور مبینہ نذرانہ تنازعہ سامنے آنے کے باوجود ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کیوں کی گئی۔

پارٹی نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے میں صرف نچلے درجے کے ملازمین تک کارروائی محدود نہ رکھی جائے بلکہ یہ بھی معلوم کیا جائے کہ مبینہ بے ضابطگیوں کی ذمہ داری کن افراد تک پہنچتی ہے اور کیا ٹرسٹ کے اعلیٰ عہدیداروں کا بھی اس سے کوئی تعلق ہے۔ کانگریس کے مطابق چمپت رائے کے خلاف بھی قانونی کارروائی ہونی چاہیے اور پورے معاملے کی غیر جانبدارانہ جانچ کی جائے۔

Published: undefined

سپریا شرینیت نے کہا کہ اگر وزیر اعظم نریندر مودی رام مندر کی تعمیر کا سیاسی اور عوامی کریڈٹ لیتے رہے ہیں تو پھر اس معاملے میں جواب دہی بھی ان پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی خاموشی کئی اہم سوالات کو جنم دے رہی ہے اور انہیں عوام کے سامنے اپنی پوزیشن واضح کرنی چاہیے۔

کانگریس نے مطالبہ کیا کہ ایس آئی ٹی کی مکمل رپورٹ بلا تاخیر منظر عام پر لائی جائے، شری رام جنم بھومی تیرتھ کشیتر ٹرسٹ کو تحلیل کیا جائے، چمپت رائے اور دیگر ذمہ دار افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے، مندر میں ابتدا سے موصول ہونے والے تمام نذرانوں کا آزادانہ آڈٹ کرایا جائے اور پورے معاملے کی جانچ سپریم کورٹ کے موجودہ جج کی نگرانی میں کرائی جائے۔ پارٹی نے یہ بھی کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اس معاملے پر خاموشی توڑیں اور عقیدت مندوں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچنے پر عوام سے معافی مانگیں۔

Published: undefined

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined