
ویڈیو گریب
چنڈی گڑھ: کانگریس نے پنجاب میں آئندہ اسمبلی انتخابات کی تیاریوں کو تیز کرتے ہوئے فروری 2027 میں ریاست میں اپنی حکومت بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ پارٹی کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے کہا کہ پنجاب میں امن و امان کی خراب صورت حال، منشیات کے کاروبار اور بے روزگاری سے نوجوان اور ان کے خاندان پریشان ہیں۔ کانگریس ان مسائل کو اٹھاتے ہوئے عوام کے درمیان جائے گی اور ریاست میں امن و سکون بحال کرنا اس کی اولین ترجیح ہوگی۔
چنڈی گڑھ میں کانگریس کی اعلیٰ قیادت کی دو روزہ میٹنگ کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وینوگوپال نے کہا کہ پارٹی نے ریاستی عہدیداروں، ضلعی صدور، سابق وزرا، اراکین پارلیمنٹ، اراکین اسمبلی اور گزشتہ انتخابات میں امیدوار رہنے والے رہنماؤں سے تفصیلی بات چیت کی ہے۔ ان ملاقاتوں میں آئندہ انتخابات کی حکمت عملی اور تنظیم کو مضبوط بنانے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ میٹنگ کے دوران تمام رہنماؤں سے کھل کر بات ہوئی اور پارٹی کو ریاست کے مختلف حصوں سے اہم معلومات حاصل ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کو پورا اعتماد ہے کہ فروری 2027 میں پنجاب میں اس کی حکومت بنے گی۔
کانگریس رہنماؤں نے بتایا کہ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی 4 نومبر کو پنجاب کے سنگرور میں ایک بڑے پروگرام میں شرکت کریں گے۔ پارٹی اس پروگرام کو انتخابی مہم کے لیے اہم قرار دے رہی ہے۔ وینوگوپال نے کہا کہ یہ پروگرام پنجاب کی سیاست میں فیصلہ کن موڑ ثابت ہوسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس کا مقصد محض انتخابات جیتنا نہیں، بلکہ پنجاب کو دوبارہ ایک پُرامن ریاست بنانا ہے۔ ان کے مطابق راہل گاندھی نے ریاستی رہنماؤں کو واضح ہدایت دی ہے کہ وہ اختلافات بھلا کر متحد ہوکر انتخابات لڑیں۔ وینوگوپال نے پنجاب کی عام آدمی پارٹی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ ریاست میں منشیات کے کاروبار کو تحفظ حاصل ہے اور پولیس منشیات مافیا کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام ہے۔ انہوں نے کہا کہ بے روزگاری کے باعث نوجوان پریشان ہیں اور جرائم و تشدد نے عام خاندانوں کو خوف زدہ کر رکھا ہے۔
انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے پنجاب کو منشیات سے پاک بنانے کے دعووں پر بھی سوال اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ سرحدوں کی نگرانی اور منشیات کی اسمگلنگ روکنے کی ذمہ داری مرکزی حکومت پر بھی عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پنجاب میں منشیات کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے گئے۔
پریس کانفرنس میں کانگریس رہنماؤں سے پارٹی کے اندر اختلافات اور تنظیمی تبدیلیوں سے متعلق سوالات بھی کیے گئے۔ وینوگوپال نے کہا کہ کانگریس ایک جمہوری جماعت ہے، جہاں مختلف آرا ہوسکتی ہیں، لیکن انتخابات کے وقت تمام رہنما ایک ساتھ کھڑے ہوں گے۔ انہوں نے پنجاب کانگریس کے سابق صدر راجا وڑنگ سمیت دیگر سینئر رہنماؤں کے کردار کو اہم قرار دیا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ پارٹی انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی (ایس آئی آر) کے دوران ووٹر فہرستوں سے نام حذف کیے جانے کے معاملات پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ ان کے مطابق کانگریس ووٹروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد کرے گی۔ اس موقع پر پنجاب کانگریس کے رہنماؤں نے دعویٰ کیا کہ پارٹی پوری قوت کے ساتھ انتخابی میدان میں اترنے کے لیے تیار ہے۔ پریس کانفرنس کے دوران کانگریس نے شرومنی اکالی دل سے وابستہ رہے مونٹو بورا اور سابق پولیس افسر سکھ درشن سنگھ برار کی پارٹی میں شمولیت کا خیرمقدم کیا۔ کانگریس رہنماؤں نے اسے پنجاب میں پارٹی کی سیاسی سرگرمیوں کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔