
آئی اے این ایس
کانگریس نے لوک سبھا میں صدر کے خطاب پر شکریہ کی تحریک منظور ہونے کے بعد حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کو چار دن تک ایوان میں بولنے کا موقع نہیں دیا گیا۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی قومی سلامتی اور دفاعی پالیسی سے متعلق ان کی بات سننا نہیں چاہتے تھے، اسی لیے انہیں جان بوجھ کر روکا گیا۔
لوک سبھا نے جمعرات کو اپوزیشن ارکان کے ہنگامے کے درمیان صدر کے خطاب پر شکریہ کی تجویز صوتی ووٹ سے منظور کر لی۔ پارلیمانی روایت کے مطابق اس تجویز پر بحث کے بعد وزیر اعظم ایوان میں جواب دیتے ہیں، تاہم جاری تعطل کے سبب وزیر اعظم کا جواب لوک سبھا میں نہیں ہو سکا اور تجویز منظور کر لی گئی۔
Published: undefined
کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ راہل گاندھی قومی سلامتی اور دفاعی پالیسی پر کچھ بنیادی نکات اٹھانا چاہتے تھے، مگر انہیں بولنے سے روکا گیا۔ ان کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر دفاع راجناتھ سنگھ ان باتوں کو سننا نہیں چاہتے تھے۔
جے رام رمیش نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اپوزیشن میں رہتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی نے دس جون دو ہزار چار کو اُس وقت کے وزیر اعظم منموہن سنگھ کو بھی ایوان میں بولنے سے روکا تھا، حالانکہ اس وقت صدر کے خطاب پر بحث مکمل ہو چکی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورت حال جمہوری روایات کے منافی ہے۔
Published: undefined
راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف ملکارجن کھڑگے نے بھی اس معاملے کو اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے دو ستون ہیں، ایک لوک سبھا اور دوسرا راجیہ سبھا۔ اگر ایک ستون پر حملہ ہوتا ہے تو دوسرا ستون بھی کمزور ہو جاتا ہے۔ کانگریس کے مطابق اس مسئلے پر اپوزیشن جماعتیں متحد ہیں اور انہوں نے بطور احتجاج راجیہ سبھا سے واک آؤٹ کیا۔
لوک سبھا میں کانگریس کے وہپ اور موجودہ بجٹ اجلاس کی بقیہ مدت کے لیے معطل رکن پارلیمنٹ مانیکم ٹیگور نے کہا کہ ایوان میں دو آوازیں ہوتی ہیں، ایک حکمراں جماعت کی اور دوسری اپوزیشن کی، مگر اپوزیشن کی آواز دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نہیں چاہتی کہ اپوزیشن کو مؤثر انداز میں بات رکھنے کا موقع ملے۔
Published: undefined
انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی سوچ ’من کی بات‘ تک محدود ہے، جو ریڈیو پر ہو سکتی ہے، لیکن پارلیمنٹ میں قائد حزب اختلاف کو بولنے کا حق حاصل ہے اور اس کے بعد وزیر اعظم جواب دیتے ہیں۔ ٹیگور کے مطابق یہ پہلی بار ہے کہ قائد حزب اختلاف کو بولنے کا موقع نہیں دیا گیا اور وزیر اعظم نے بھی جواب نہیں دیا، جو جمہوری نظام کے لیے افسوسناک ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined