قومی خبریں

دو تہائی اکثریت کے لیے اپوزیشن میں توڑ پھوڑ، امت شاہ پر کانگریس کا حملہ

کانگریس نے امت شاہ پر الزام لگایا کہ وہ لوک سبھا میں دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کے لیے اپوزیشن جماعتوں میں توڑ پھوڑ کر رہے ہیں۔ جے رام رمیش نے کہا کہ جمہوریت کو کمزور کرنے کی یہ کوشش کامیاب نہیں ہوگی

کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش / آئی اے این ایس
کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش / آئی اے این ایس 

کانگریس نے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ بغیر کسی نئے انتخاب کے لوک سبھا میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیے دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس مقصد کے لیے اپوزیشن جماعتوں میں توڑ پھوڑ کی سیاست کو فروغ دے رہے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے کہا ہے کہ جمہوری اقدار کے خلاف ایسی کوششیں پہلے کبھی نہیں دیکھی گئیں اور ان کے نتائج ملک کے جمہوری نظام کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

Published: undefined

جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ماضی میں کسی بھی سیاسی رہنما نے لوک سبھا میں اپنی جماعت کے لیے دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کی ایسی مہم نہیں چلائی جیسی اس وقت امیت شاہ پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس سے قبل چلا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر داخلہ شدید بے چینی کے ساتھ مختلف سیاسی جماعتوں کے ارکان کو اپنی طرف لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ 17 اپریل 2026 کو قومی جمہوری اتحاد کو اس وقت بڑی سیاسی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا جب وہ حلقہ بندی سے متعلق آئینی ترمیمی بل کی منظوری کے لیے ضروری دو تہائی اکثریت حاصل نہ کر سکا۔ جے رام رمیش کے مطابق اس شکست کے بعد امیت شاہ اپوزیشن جماعتوں کو تقسیم کرنے اور جمہوری اداروں کو کمزور کرنے میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتیں اس صورتحال کے خلاف اپنی سیاسی جدوجہد جاری رکھیں گی اور ایسے عزائم کامیاب نہیں ہونے دیے جائیں گے۔

Published: undefined

کانگریس کا یہ ردعمل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ترنمول کانگریس کے باغی رکن پارلیمنٹ جگدیش چندر ورما بسونیا نے اعلان کیا ہے کہ ان کا گروپ پیر کے روز لوک سبھا اسپیکر اوم برلا سے ملاقات کرے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے ساتھ 19 ارکان پارلیمنٹ موجود ہیں اور یہ گروپ خود کو ترنمول کانگریس کا اصل دھڑا تسلیم کیے جانے کا مطالبہ کرے گا۔

بسونیا، جو کوچ بہار سے رکن پارلیمنٹ ہیں، نے کہا کہ ان کے حامی ارکان قومی جمہوری اتحاد کی حمایت کے حق میں ہیں۔ ادھر مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس کو اندرونی اختلافات کے باعث شدید بحران کا سامنا ہے۔ اطلاعات کے مطابق پارٹی کے متعدد ارکان اسمبلی اور ارکان پارلیمنٹ قیادت سے اختلاف کرتے ہوئے الگ صف بندی کر چکے ہیں، جس سے جماعت کی سیاسی اور تنظیمی طاقت متاثر ہوئی ہے۔

Published: undefined

حالیہ دنوں میں ترنمول کانگریس کے اندر بغاوت کی خبریں تیز ہوئی ہیں اور بعض باغی ارکان نے قومی جمہوری اتحاد کی حمایت کا اعلان بھی کیا ہے۔ تاہم باغی ارکان کی درست تعداد کے بارے میں ابھی مختلف دعوے سامنے آ رہے ہیں۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس پیش رفت کے اثرات قومی سیاست اور پارلیمانی توازن پر نمایاں طور پر مرتب ہو سکتے ہیں۔

Published: undefined

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined