قومی خبریں

’واپس آئیے، مل کر ہندوستان بناتے ہیں‘، گرین کارڈ سے متعلق امریکی فیصلہ پر شریدھر ویمبو کی ہندوستانیوں سے اپیل

ویمبو کا کہنا ہے کہ اگر کچھ باصلاحیت لوگ امریکہ سے ہندوستان واپس آکر اسٹارٹ اَپ شروع کرتے ہیں، تحقیق کرتے ہیں یا ہندوستانی کمپنیوں کو عالمی سطح پر لے جاتے ہیں تو اس کا فائدہ ملک کو مل سکتا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>شریدھر ویمبو، تصویر ’ایکس‘&nbsp;<a href="https://x.com/vdsatheesan">@vdsatheesan</a></p></div>

شریدھر ویمبو، تصویر ’ایکس‘ @vdsatheesan

 

گوگل، مائیکروسافٹ اور میٹا سے لے کر ایپل تک امریکہ کو عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کا سپر پاور بنانے میں ہندوستانی انجینئرز اور آئی ٹی پروفیشنلز کا بڑا تعاون رہا ہے۔ بڑی بڑی ٹیک کمپنیوں میں ہند نژاد سی ای او ہیں، جبکہ ہندوستانی انجینئرز سافٹ ویئر سے لے کر مصنوعی ذہانت تک کی دنیا میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ لیکن اب اسی امریکہ میں ہندوستانی آئی ٹی پروفیشنلز کے مستقبل کو لے کر ایک نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔ امریکی حکومت نے کئی بڑی ٹیک اور آئی ٹی کمپنیوں کو گرین کارڈ حاصل کرنے کے عمل کے ایک اہم حصے، ’پرم‘ (PERM) پروگرام سے معطل کر دیا ہے۔ یہ خبر عام ہونے کے بعد ’زوہو‘ کے بانی شریدھر ویمبو نے امریکہ میں کام کرنے والے ہندوستانیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ہندوستان واپس آکر ملک کی ٹیکنالوجی انڈسٹری کو مضبوط بنانے میں اپنا تعاون دیں۔

ویمبو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا ہے کہ ہندوستانیوں نے امریکہ کی تکنیکی طاقت بڑھانے میں بڑا تعاون دیا ہے، لیکن اب امریکہ کا ایک بڑا طبقہ انہیں اپنے درمیان نہیں چاہتا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی ویزا پر رہنے والے ہندوستانیوں کو اپنی محنت سے بنائی گئی زندگی اور کیریئر چھوڑنے جیسی مشکل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایسے میں انہوں نے ہندوستانی پروفیشنلز سے کہا ہے کہ ’’واپس آئیے، مل کر ہندوستان بناتے ہیں۔‘‘ یہ اپیل ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ میں امیگریشن کے ضابطوں کو لے کر سختی بڑھ رہی ہے۔ لیکن اس معاملے کا ایک بڑا سوال یہ بھی ہے کہ کیا امریکہ میں ہندوستانیوں کے لیے مواقع واقعی کم ہو رہے ہیں، یا یہ ایک ایسے فیصلے کا اثر ہے جو کچھ کمپنیوں اور گرین کارڈ کے ایک مخصوص طریقۂ کار تک محدود ہے؟

شری دھر ویمبو نے اپنی پوسٹ میں موجودہ حالات کا ذکر کرتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ چین، تائیوان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کے لوگ بہتر مواقع کی تلاش میں بیرون ملک گئے، لیکن ان ممالک نے اپنے یہاں بھی ترقی کا سلسلہ جاری رکھا۔ ان کے مطابق بیرون ملک ہندوستانیوں کا کام کرنا اور ہندوستان کی ترقی کرنا ایک دوسرے کے مخالف نہیں ہیں۔ اصل ضرورت ایسی کمپنیاں اور مواقع پیدا کرنے کی ہے جن کے لیے ہندوستانی باصلاحیت افراد اپنے ملک میں بھی کام کرنا چاہیں۔

یہاں ویمبو کی بات کا ایک عملی پہلو بھی ہے۔ بیرون ملک کام کرنے والے پروفیشنلز کے پاس تکنیکی تجربہ، عالمی منڈیوں کی سمجھ اور بڑی کمپنیوں میں کام کرنے کا تجربہ ہوتا ہے۔ اگر ان میں سے کچھ لوگ ہندوستان واپس آکر اسٹارٹ اَپ شروع کرتے ہیں، تحقیق کرتے ہیں یا ہندوستانی کمپنیوں کو عالمی سطح پر لے جاتے ہیں تو اس کا فائدہ ملک کو مل سکتا ہے۔

لیکن صرف اپیل کردینے سے لوگ واپس نہیں آئیں گے۔ اس کے لیے ہندوستان میں اچھی ملازمتیں، بہتر تنخواہیں، تحقیق کے مواقع، مضبوط اسٹارٹ اَپ نظام اور کاروبار کو وسعت دینے کے لیے ضروری سہولتیں بھی درکار ہیں۔ بیرون ملک کام کرنے والے کسی بھی شخص کے لیے خاندان، بچوں کی تعلیم، گھر، تنخواہ اور مستقل رہائش جیسے سوالات بھی اتنے ہی اہم ہیں۔ اس لیے ویمبو کا پیغام بحث تو شروع کر سکتا ہے، لیکن ہندوستان کو باصلاحیت افراد کے لیے ایک پرکشش مقام بنانے کے لیے ٹھوس مواقع پیدا کرنے ہوں گے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔