آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو
بہار اسمبلی میں حزب اختلاف کے قائد اور آر جے ڈی رہنما تیجسوی یادو نے این ڈی اے حکومت پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ تیجسوی یادو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ریاستی حکومت سنگین مالی بحران سے نبرد آزما ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ این ڈی اے حکومت کے پاس پیسہ نہیں بچا ہے کیونکہ بدعنوانی کی وجہ سے خزانہ خالی ہے۔
Published: undefined
آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو نے کہا کہ ریاست میں جاری مالی بحران سے نبردآزما غیر اخلاقی حکومت نے حالیہ دنوں میں دوسری بار فنڈ نکالنے اور اخراجات پر قابو پانے سے متعلق ایک خط جاری کیا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اپنی کرسی بچانے کے لیے بدعنوان ریٹائرڈ اور کمپرومائزڈ اعلیٰ افسران اور ایجنسیوں سے خوفزدہ ’بھونجا گینگ‘ نے بے ہوش اور غیر فعال وزیر اعلیٰ سے مل کر ’کھٹارا حکومت‘ سے انتخاب کے آخری 30 دنوں میں 41000 کروڑ روپے تقسیم کرا دیے۔
Published: undefined
تیجسوی یادو کے مطابق اب کئی ماہ سے بزرگوں کو دی جانے والی سماجی پنشن، اسٹوڈنٹ کے کریڈٹ کارڈ کی ادائیگی، طلبہ کو وظیفہ اور ملازمین کو تنخواہ و پنشن دینے کے لیے بھی این ڈی اے حکومت کے پاس رقم نہیں بچی ہے۔ کیونکہ بدعنوانی کی وجہ سے خزانہ خالی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ جوڑ توڑ اور سازشوں کے بل بوتے پر بنی یہ کام چلاؤ حکومت اب سود پر لیے گئے قرض کے سہارے چل رہی ہے۔ یہ بدعنوان حکومت 100 کروڑ سے زائد روپے یومیہ صرف سود کی ادائیگی میں خرچ کر رہی ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ این ڈی اے حکومت نے بہار پر تقریباً 4 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کے قرض کا بوجھ ڈال دیا ہے۔
Published: undefined
سابق نائب وزیر اعلیٰ بہار تیجسوی یادو کا کہنا ہے کہ بہار کا خزانہ اتنا خالی ہو چکا ہے کہ پورری ریاست ٹھپ پڑی ہوئی ہے، کوئی بھی ترقیاتی منصوبہ نہیں چل رہا ہے۔ جانتے ہے کیوں؟ کیونکہ ایک ایسی نکمی حکومت بہار کو چلا رہی ہے، جس کے پاس نہ تو وِژن ہے اور نہ ہی روڈ میپ۔ ان کے مطابق بدعنوانی میں ڈوبی ہوئی این ڈی اے حکومت بہار کے خزانے سے پیسے تو نکال لیتی ہے لیکن اسے معلوم ہی نہیں ہوتا ہے کہ 92 ہزار 132 کروڑ روپے کہاں خرچ کیے؟
Published: undefined
آر جے ڈی رہنما نے مزید کہا کہ ’کیگ‘ کی رپورٹ بتاتی ہے کہ ڈبل انجن کی حکومت 90 ہزار کروڑ روپے کے اخراجات کا یوٹیلٹی سرٹیفکیٹ جمع نہیں کر پائی۔ مطلب خرچ تو ہوئے، لیکن این ڈی اے کے لیڈران اور افسران کی جیب بھرنے میں یا این ڈی اے سنڈیکیٹ میں بندر بانٹ کرنے میں یا کس مَد میں یہ خطیر رقم خرچ کی گئی حکومت کو معلوم ہی نہیں ہے۔ این ڈی اے حکومت میں بدعنوانی اتنا ’وراٹ‘ (بڑا) ہو گیا ہے کہ بدعنوان ہی ’سمراٹ‘ (حاکم) ہو گیا۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined