قومی خبریں

کیرالہ: پنرائی وجین کے گھر کے باہر ای ڈی افسران اور سی پی آئی ایم کارکنوں میں جھڑپ، گاڑیوں میں توڑ پھوڑ

پنرائی وجین کی رہائش گاہ کے باہر ای ڈی کی کارروائی کے بعد ہنگامہ آرائی ہوئی۔ سی پی آئی ایم کارکنوں پر ای ڈی کی گاڑیوں کو نقصان پہنچانے کا الزام ہے، جبکہ پولیس کارروائی میں ایک اہلکار زخمی ہوا

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>

آئی اے این ایس

 

کیرالہ کے ترواننت پورم میں سابق وزیر اعلیٰ اور موجودہ قائد حزب اختلاف پنرائی وجین کی رہائش گاہ کے باہر اس وقت کشیدگی پیدا ہو گئی جب انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی کارروائی کے بعد سی پی آئی ایم کارکنوں اور اہلکاروں کے درمیان جھڑپ ہو گئی۔ اطلاعات کے مطابق احتجاج کے دوران ای ڈی کی گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا اور حالات پر قابو پانے کے لیے پولیس کو مداخلت کرنی پڑی۔

Published: undefined

معلومات کے مطابق ’کوچین منرلز اینڈ روٹائل لمیٹڈ‘ معاملے سے متعلق ای ڈی کی جانب سے کیرالہ میں 10 مقامات پر تلاشی مہم چلائی جا رہی تھی۔ اسی سلسلے میں ای ڈی افسران پنرائی وجین کی رہائش گاہ پر بھی موجود تھے۔ کارروائی مکمل ہونے کے بعد جب افسران وہاں سے نکلنے لگے تو سی پی آئی ایم کارکنوں نے ان کی گاڑیوں کو گھیر لیا۔

رپورٹ کے مطابق مشتعل کارکنوں نے ای ڈی کی تین گاڑیوں کو نقصان پہنچایا اور ان پر پتھراؤ بھی کیا۔ موقع پر موجود پولیس نے بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا۔ ہنگامے کے دوران ایک پولیس اہلکار زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے۔ بعد ازاں ای ڈی افسران سخت سکیورٹی کے درمیان وہاں سے روانہ ہو گئے۔

Published: undefined

اس معاملے پر پنرائی وجین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کافی عرصے سے ای ڈی ان کے گھر پر تلاشی لینا چاہتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ بعض لوگ انتخابی مہم کے دوران مسلسل سوال اٹھا رہے تھے کہ ان کے گھر پر کارروائی کیوں نہیں کی جا رہی اور انہیں گرفتار کیوں نہیں کیا جا رہا۔

پنرائی وجین نے مرکزی حکومت پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ملک میں اپوزیشن رہنماؤں کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات سے انہیں یا ان کی جماعت کو کمزور نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب بھی ان کے خلاف کارروائی کی کوشش ہوئی، پارٹی نے ان کا مضبوط ساتھ دیا۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال میں بھی کارکنوں نے اپنی وابستگی کا ثبوت دیا ہے اور وہ اپنی جماعت کے ساتھ ہر چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined