
امنگ سنگھار، تصویر/آئی اے این ایس
مدھیہ پردیش اسمبلی میں قائد حزب اختلاف امنگ سنگھار نے ریاست کی بی جے پی حکومت پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک طرف بڑی مقدار میں اناج سڑنے کی حالت میں ہے، جبکہ دوسری طرف ریاست میں بچے غذائی قلت کا شکار ہو کر جان گنوا رہے ہیں۔ انہوں نے حکومت کی پالیسیوں اور اناج کی تقسیم کے نظام پر بھی سوال اٹھائے۔
امنِگ سنگھار نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کے لوگوں کو ضرورت کے مطابق اناج نہیں مل پا رہا ہے۔ ان کے مطابق یہی صورتحال بچوں میں غذائی قلت کے مسائل اور اموات کی ایک بڑی وجہ بن رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہی اناج ضرورت مند لوگوں اور بچوں تک پہنچتا تو غذائی قلت کی صورتحال کو کم کرنے میں مدد مل سکتی تھی۔
کانگریس رہنما نے الزام عائد کیا کہ ریاست میں اناج کے سڑنے کی صورتحال بھی تشویش کا باعث ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ایتھنول پلانٹ کے لیے جان بوجھ کر اناج کو خراب کیا جا رہا ہے؟ انہوں نے بالاگھاٹ میں غذائی قلت سے متعلق سامنے آئے معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلہ سب کے سامنے ہے۔
سنگھار نے حکومت کی ذمہ داریوں پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کانگریس عام لوگوں کی آواز بن کر مختلف طبقات سے متعلق مسائل کو مسلسل اٹھا رہی ہے۔ ان کے مطابق ہر طبقے کو اس کے حقوق دلانا کانگریس کی ذمہ داری ہے اور پارٹی عوام کے درمیان جاکر حکومت کی پالیسیوں اور اس کی کارکردگی سے متعلق سوالات اٹھا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عوام سے جڑے مسائل کو اس وقت تک اٹھایا جاتا رہے گا جب تک ان کا حل نہیں نکل جاتا۔ سنگھار نے نوجوانوں کے مسائل سمیت مختلف عوامی امور پر بھی حکومت کو گھیرنے کا اعلان کیا۔
الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) کے معاملے پر بھی امنگ سنگھار نے اپنی رائے کا اظہار کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جس دن ای وی ایم کے ذریعے انتخابات ہونا بند ہوجائیں گے، اس دن بھارتیہ جنتا پارٹی محدود ہوجائے گی۔ سنگھار کے یہ الزامات ریاستی حکومت کی غذائی تقسیم، اناج کے ذخیرے اور غذائی قلت سے متعلق پالیسیوں پر سیاسی بحث کے درمیان سامنے آئے ہیں۔ تاہم، گفتگو میں ان الزامات کے حوالے سے ریاستی حکومت کا مؤقف شامل نہیں ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔