قومی خبریں

چیک باؤنس معاملہ: راجپال یادو نے سپریم کورٹ میں 2 کروڑ کی جگہ جمع کرایا صرف 1.15 کروڑ روپے کا ڈیمانڈ ڈرافٹ

چیف جسٹس سوریہ کانت نے راجپال یادو کو اچھی فلم بنا کر لوگوں کا تفریح کرنے اور اپنی شبیہ بہتر کرنے کا مشورہ دیا۔ اس پر راجپال نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ آنے والی فلم کا نام ’سولہ ساون جھیل کے‘ رکھا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>راج پال یادو کی فائل تصویر، آئی اے این ایس</p></div>

راج پال یادو کی فائل تصویر، آئی اے این ایس

 

چیک باؤنس معاملے میں بالی ووڈ اداکار راجپال یادو بدھ (7 اکتوبر) کو سپریم کورٹ میں ذاتی طور پر پیش ہوئے۔ ججوں نے ان کی طرف سے سونپے گئے ایک کروڑ 15 لاکھ روپے کا ڈیمانڈ ڈرافٹ قبول کیا اور ان سے باقی رقم کی ادائیگی کی حتمی تاریخ بھی بتانے کو کہا۔ اس دوران ججوں نے ان سے یہ بھی کہا کہ وہ ایک اچھی فلم بنا کر لوگوں کو تفریح فراہم کریں۔ دراصل 15 ستمبر کو عدالت نے ان سے آئندہ سماعت میں کم از کم 2 کروڑ روپے کا ڈرافٹ سونپنے کو کہا تھا۔ 5 اکتوبر کو ان کی طرف سے صرف 50 لاکھ کا ڈرافٹ لایا گیا تھا۔ اس پر عدالت نے انہیں جیل بھیجنے کی وارننگ دی تھی۔ آج کی سماعت میں راجپال یادو نے عدالت میں 1.15 کروڑ روپے کا ڈیمانڈ ڈرافٹ پیش کیا۔ ساتھ ہی 13 اکتوبر کو 85 لاکھ روپے آر ٹی جی ایس کے ذریعہ جمع کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

چیف جسٹس سوریہ کانت جسٹس جوئے مالیہ باغچی اور جسٹس وی موہنا کی بنچ نے راجپال یادو سے براہ راست بات چیت بھی کی۔ راجپال یادو نے عدالت کو بتایا کہ 16 سال پرانے اس معاملے کی وجہ سے ان کا وقار مجروح ہوا ہے اور انہیں معاشی نقصان بھی ہوا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ جس فلم ’اتا پتا لاپتا‘ کا یہ معاملہ ہے وہ کسی تھیٹر میں ریلیز نہیں ہو سکی تھی۔ خود انہیں اس میں تقریباً 17 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔ اس پر چیف جسٹس سوریہ کانت نے انہیں اچھی فلم بنا کر لوگوں کا تفریح کرنے اور اپنی شبیہ بہتر کرنے کا مشورہ دیا۔ راجپال یادو نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ آنے والی فلم کا نام ’سولہ ساون جھیل کے‘ رکھا ہے۔

راجپال یادو کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اداکار نے تقریباً 30 کروڑ روپے کی آبائی جائیداد فروخت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہیں ایک خریدار سے 85 لاکھ روپے بطور ایڈوانس ملنے ہیں۔ ’پِرت پکش‘ کے باعث فی الحال یہ ادائیگی نہیں ہو رہی ہے۔ ’نوراتری‘ شروع ہونے کے بعد 13 اکتوبر کو خریدار یہ رقم آر ٹی جی ایس کے ذریعہ جمع کر دے گا۔ واضح رہے کہ 2010 میں راجپال یادو نے فلم ’اتا پتا لاپتا‘ کے لیے دہلی کی کمپنی مرلی پروجیکٹس سے تقریباً 5 کروڑ روپے کا قرض لیا تھا۔ قرض واپسی کے 7 چیک باؤنس ہونے پر کمپنی نے عدالت کا رخ کیا۔ نچلی عدالت کے بعد دہلی ہائی کورٹ نے بھی راجپال یادو کو معاملے میں قصوروار ٹھرایا۔ 10 جولائی 2026 کو دہلی ہائی کورٹ نے انہیں چیک باؤنس کے ہر معاملہ کے لیے الگ الگ 1.35 کروڑ روپے جرمانہ بھرنے کے لیے کہا۔ ساتھ ہی 3 مہینے کی جیل کی سزا بھی دی۔

8 ستمبر کو سپریم کورٹ نے راج پال یادو کو جیل جانے سے عبوری راحت دیتے ہوئے رجسٹری میں 5 کروڑ روپے جمع کرنے کو کہا تھا۔ 15 ستمبر کو راج پال نے ابتدائی طور پر 2 کروڑ روپے جمع کرنے کی تجویز پیش کی۔ فی الحال 2 کروڑ روپے کی ادائیگی کا عمل جاری ہے۔ اس کے بعد مزید ادائیگی پر بات چیت ہوگی۔ بدھ کو ہوئی سماعت میں بنچ کے رکن جسٹس جوئے مالیہ باغچی نے راجپال یادو کو یہ وارننگ بھی دی کہ وہ اسے صرف 3 ماہ کی سزا نہ سمجھیں۔ سزا بڑھا کر 2 سال بھی کی جا سکتی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔