قومی خبریں

کینیڈین مصنفہ این کارسن کو ادب کا نوبل، بے باک اور اختراعی تخلیقات پر اعزاز

کینیڈین شاعرہ اور مضمون نگار این کارسن کو 2026 کا ادب کا نوبل انعام دیا گیا ہے۔ انہیں بے باک اور اختراعی تخلیقات کے لیے اعزاز ملا، جن میں کلاسیکی اور جدید ادب کا منفرد امتزاج نمایاں ہے

<div class="paragraphs"><p>تصویر بشکریہ ایکس</p></div>

تصویر بشکریہ ایکس

 

کینیڈین شاعرہ، مضمون نگار اور کلاسیکی ادب کی ماہر این کارسن کو 2026 کے ادب کے نویل انعام سے نوازنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ نویل کمیٹی کے مطابق انہیں یہ اعزاز ایسی بے باک اور اختراعی تخلیقات کے لیے دیا گیا ہے جو کلاسیکی روایت کے ساتھ نئے انداز میں مکالمہ کرتے ہوئے عصری ادب کے لیے نئی صورتیں تشکیل دیتی ہیں۔

نویل کمیٹی نے کہا کہ کارسن کی تقریباً پوری ادبی تخلیق الفاظ کے تئیں ایک ماہرِ لسانیات کے جنون اور نئے معنوں کی تلاش میں مصروف شاعر کی جستجو کے امتزاج پر مبنی ہے۔ کارسن کو ان کے انتخاب کی خبر دی گئی تو وہ حیران رہ گئیں۔

1950 میں ٹورنٹو میں پیدا ہونے والی 76 سالہ این کارسن نے اپنی ادبی زندگی میں شاعری، نثر، مضمون نگاری اور ترجمے سمیت مختلف اصناف میں کام کیا۔ انہوں نے شمالی امریکا کی متعدد یونیورسٹیوں میں کلاسیکی ادب بھی پڑھایا۔ ان کی تخلیقات میں قدیم یونانی اور رومی ادب کے موضوعات اور کردار نمایاں طور پر نظر آتے ہیں، تاہم وہ انہیں جدید ادبی تجربات کے ساتھ جوڑتی ہیں۔

کارسن کی معروف کتابوں میں ’ایروس دی بٹر سویٹ‘، ’آٹو بایوگرافی آف ریڈ‘، ’مین اِن دی آف آورز‘ اور ’نارما جین بیکر آف ٹرائے‘ شامل ہیں۔ 1986 میں شائع ہونے والی ’ایروس دی بٹر سویٹ‘ میں انہوں نے قدیم یونانی ادب کے ذریعے محبت اور خواہش کی پیچیدگیوں کا جائزہ لیا اور دکھایا کہ محبت میں خوشی کے ساتھ تکلیف بھی شامل ہو سکتی ہے۔

کارسن کی ایک نمایاں خصوصیت مختلف ادوار کے ادیبوں اور مفکرین کو ایک ہی تخلیق میں ساتھ لانا ہے۔ ان کی 1999 کی کتاب ’اکانومی آف دی اَن لاسٹ‘ میں قدیم یونانی شاعر سیمونائڈیز کو جدید شاعر پال سیلان کے ساتھ پیش کیا گیا، جبکہ ’مین اِن دی آف آورز‘ میں قدیم مورخ تھوسی ڈائڈیز اور جدید ادیبہ ورجینیا وولف کے خیالات کو ایک دوسرے کے سامنے رکھا گیا۔ اس انداز سے انہوں نے قدیم اور جدید ادب کے درمیان ایک منفرد رشتہ قائم کیا۔

کارسن نے کلاسیکی یونانی ادب کی متعدد اہم تخلیقات کے تراجم بھی کیے ہیں۔ ان کے بعض تراجم کو سویڈش اکیڈمی نے محض ترجمہ نہیں بلکہ اپنی جگہ مکمل ادبی تخلیقات قرار دیا ہے۔ این کارسن اور ان کے شوہر رابرٹ کیوری 2022 میں آئس لینڈ کے شہری بنے تھے۔ ادب کا نویل انعام دسمبر میں اسٹاک ہوم میں ایک تقریب کے دوران دیا جائے گا۔ انہیں نویل میڈل، ڈپلومہ اور تقریباً 1.2 کروڑ سویڈش کرونر کی انعامی رقم دی جائے گی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔