
بلڈوزر کارروائی، علامتی تصویر
اتر پردیش کے ایودھیا میں جنورا ناکہ پر ’14 کوسی پریکرما‘ راستے کو چوڑا کرنے کے لیے 20 ستمبر کو انہدامی مہم چلائی گئی۔ اس کارروائی سے علاقہ کے لوگوں میں شدید غم و غصہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہدامی کارروائی کے دوران افرا تفری کا ماحول دیکھنے کو ملا۔ مقامی لوگوں نے اس انہدامی کارروائی کی مخالفت بھی کی۔
واضح رہے کہ اتوار کو ناکہ ہنومان گڑھی کے سامنے انتظامیہ کا بلڈوزر چلا۔ کارروائی کے دوران علاقے کی بجلی سپلائی بند کر دی گئی۔ اس کارروائی کے پیش نظر سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور بڑی تعداد میں پی اے سی و پولیس کے جوان تعینات رہے۔ موقع پر ایس ڈی ایم سمیت کئی انتظامی افسران بھی موجود تھے۔ دراصل 4 لین میں تعمیر کیے جا رہے ’14 کوسی پریکرما‘ کے آس پاس توڑ پھوڑ کو ضروری قرار دیا گیا اور ضلع انتظامیہ نے اتوار کو اس سلسلے میں بڑی کارروائی کی۔ ضلع انتظامیہ کی ٹیم موقع پر پہنچی اور مقررہ راستے کی حدود میں آنے والی کئی عمارتوں کو منہدم کیا۔ اس کارروائی سے علاقے میں غم و غصہ کا ماحول ہے۔
ضلع انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جو عمارتیں نشان زد کی گئی تھیں، انہیں مقررہ کارروائی کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔ دن بھر جنورا ناکہ واقع نجول کی زمین پر بنے 3 مکانات سے متعلق گہما گہمی رہی۔ ضلع انتظامیہ نے ان کے انہدام کی کارروائی سخت سیکورٹی کے درمیان کی۔ افسران نے بتایا کہ یہ مکان نجول کی زمین پر بنے ہوئے تھے۔ انتظامیہ نے دعویٰ کیا کہ عمارتوں کے معاوضہ کی ادائیگی بھی ہو چکی تھی۔ اس کے بعد کچھ متاثرہ افراد اس معاملے کو لے کر ہائی کورٹ گئے تھے۔
بتایا جا رہا ہے کہ انتظامیہ نے ہائی کورٹ کی ہدایات کے بعد کارروائی کی ہے۔ کارروائی کے دوران اے ڈی ایم مالیات و محصولات امت بھٹ اور سی او سٹی شری یش ترپاٹھی پولیس ٹیم کے ساتھ موجود رہے۔ ’14 کوسی پریکرما‘ کے سلسلے میں ضلع انتظامیہ نے اس کارروائی کے ساتھ پریکرما راستے کی توسیع کو حتمی شکل دے دی ہے۔ کافی عرصہ سے اس معاملے کو لے کر تنازعہ بنا ہوا تھا، لیکن انہدامی کارروائی کے ساتھ یہ تنازعہ ایک طرح سے ختم ہو چکا ہے۔ حالانکہ مقامی لوگوں کا غم و غصہ جاری ہے، اور امید ہے کہ اس سلسلے میں آگے عدالتی کارروائی دیکھنے کو ملے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔