قومی خبریں

’13 کروڑ لوگوں کو درانداز کہنا ہندوستانیت کی توہین ہے‘، ملکارجن کھڑگے نے امت شاہ کے بیان پر کی تنقید

ملکارجن کھڑگے نے الزام لگایا کہ اقتدار سے سوال کرنے والوں کو جیل بھیجا جا رہا ہے، نوجوانوں پر لاٹھی چلائی جا رہی ہے اور انہیں حراست میں لیا جا رہا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>ملکارجن کھڑگے / آئی اے این ایس</p></div>

ملکارجن کھڑگے / آئی اے این ایس

 

کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑے نے خصوصی گہری نظر ثانی (ایس آئی آر) اور جنتر منتر پر احتجاجی مظاہرے سے متعلق معاملے کو لے کر مودی حکومت پر سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا ہے کہ ایس آئی آر کے تحت ووٹر لسٹ سے باہر کیے گئے 13.3 کروڑ ہندوستانیوں کو درانداز بتانا ہندوستانیت کی توہین ہے۔  کھڑگے نے جنتر منتر کو ’طے شدہ احتجاجی مظاہرے کے مقام‘ کی فہرست سے ہٹائے جانے کو مخالفت کرنے کے اختیارات پر حملہ بتایا اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو بچانے کا الزام لگایا ہے۔

کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑے نے سوشل میڈیا پر لکھا ہے کہ پہلے ووٹ چوری اور اب مخالفت کرنے کے حق کی چوری، بی جے پی کی تاناشاہی کو ظاہر کرتی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اقتدار سے سوال کرنے والوں کو جیل بھیجا جا رہا ہے، نوجوانوں پر لاٹھی چلائی جا رہی ہے اور انہیں حراست میں لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے خاتون مظاہرین کے ساتھ پولیس کی کارروائی پر بھی سوال اٹھائے۔ کھڑگے نے کہا کہ مودی اور شاہ کی پالیسیوں کے خلاف لوگ آواز اٹھاتے رہیں گے اور حکومت سے جواب طلب کریں گے۔

کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے بھی ایس آئی آر سے متعلق مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے براہ راست 3 سوالات کیے ہیں۔ انہوں نے پوچھا کہ ایس آئی آر کے دوران کتنے دراندازوں کی شناخت ہوئی، کتنے لوگوں کے نام ووٹر لسٹ سے ہٹائے گئے اور کتنے لوگوں کو ملک سے بے دخل کیا گیا؟ جے رام رمیش نے کہا کہ تقریباً 100 کروڑ ہندوستانی شہریوں کو ایس آئی آر کے عمل سے گزرنا پڑا ہے اور انہیں اس کے نتائج جاننے کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دراندازوں کا مسئلہ اٹھا کر حکومت ووٹر لسٹ سے بڑی تعداد میں ہندوستانی شہریوں کے نام ہٹائے جانے کے سوال سے توجہ ہٹا رہی ہے۔

جے رام رمیش نے دعویٰ کیا کہ ایس آئی آر کے ذریعے تقریباً 14 کروڑ ہندوستانی شہریوں کو ان کے آئینی حق رائے دہی سے محروم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا حکومت ووٹر لسٹ سے خارج کیے گئے ان لوگوں کو درانداز مان رہی ہے؟ انہوں نے وزیر داخلہ سے یہ بھی پوچھا کہ اگر ملک میں دراندازوں کی تعداد بڑھی ہے تو اس کے لیے حکومت کی جواب دہی کیا ہے؟

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔