
تصویر اے آئی
نئی دہلی: مرکزی حکومت نے موبائل صارفین کو آنے والی کال کے ساتھ کال کرنے والے کا نام دکھانے کی سہولت فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ محکمۂ مواصلات (ڈی او ٹی) نے ٹیلی کام کمپنیوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ یکم نومبر 2026 سے اپنے تمام سروس علاقوں میں کالنگ نیم پریزنٹیشن (سی این اے پی) سروس نافذ کریں۔ اس سہولت کے تحت صارفین کو آنے والی کال پر فون نمبر کے ساتھ کال کرنے والے کا نام بھی دکھائی دے گا۔
حکومتی رہنما خطوط کے مطابق، ٹیلی کام سروس فراہم کرنے والی کمپنیاں 4جی اور اس سے جدید ٹیکنالوجی پر کام کرنے والے وائرلیس نیٹ ورکس پر اس سہولت کی آزمائش پہلے ہی کر چکی ہیں۔ اہل صارفین کو یہ سہولت خودکار طور پر فراہم کی جائے گی اور اس کے لیے الگ سے درخواست دینے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ تاہم، 2جی، 3جی اور پبلک سوئچڈ ٹیلی فون نیٹ ورک پر اس سہولت کو نافذ کرنے کا فیصلہ بعد میں جائزے کے بعد کیا جائے گا۔
نئے نظام کے تحت کال کرنے والے کا نام کالنگ لائن آئیڈینٹیفکیشن (سی ایل آئی) کا حصہ ہوگا۔ فی الحال آنے والی کال پر عام طور پر صرف فون نمبر دکھائی دیتا ہے، لیکن نئی سہولت کے بعد فون کی اسکرین پر نمبر کے ساتھ نام بھی نظر آئے گا۔
حکومت کے مطابق، کال کرنے والے کا نام اس بات پر منحصر ہوگا کہ اس کا نمبر وصول کنندہ کے موبائل میں محفوظ ہے یا نہیں۔ اگر نمبر پہلے سے کانٹیکٹ لسٹ میں محفوظ ہے تو وہی نام دکھائی دے گا جو صارف نے اپنے فون میں درج کیا ہے۔ اگر نمبر محفوظ نہیں ہے تو گھریلو کال کی صورت میں کال کرنے والے کا نام متعلقہ ٹیلی کام کمپنی کے سبسکرائبر ڈیٹابیس میں موجود معلومات کے مطابق دکھایا جائے گا۔ بین الاقوامی کال کی صورت میں اسکرین پر صرف ’انٹرنیشنل کال‘ لکھا نظر آئے گا۔
حکومت نے واضح کیا ہے کہ یہ نظام ٹیلی کمیونی کیشنز (پرنسپل ٹیلی کمیونی کیشن سروسز کی فراہمی کے لیے اجازت) ضوابط، 2026 کے ضابطہ 48(1) کے مطابق نافذ کیا جا رہا ہے۔ اس کے تحت کال کرنے والے کی شناخت محفوظ طریقے سے دکھانے اور اس میں چھیڑ چھاڑ روکنے کو یقینی بنانا ہوگا۔
صارفین کی رازداری اور نیٹ ورک کی سلامتی کے لیے ٹیلی کام کمپنیوں کو ’سیکیورٹی بائی ڈیزائن‘ کے اصول پر عمل کرنا ہوگا۔ رہنما خطوط کے مطابق، کال ختم ہونے کے بعد نام کی معلومات حاصل کرنے کے لیے استعمال ہونے والے سوال و جواب کے عمل میں حاصل کردہ نام کو محفوظ نہیں رکھا جانا چاہیے۔ کمپنیوں کو یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ نئی سہولت سے نیٹ ورک کی کارکردگی اور خدمات کے معیار پر منفی اثر نہ پڑے۔
اس کے علاوہ، کاروباری اداروں اور بڑے پیمانے پر کال کرنے والے صارفین کو سبسکرائبر ریکارڈ میں درج نام کے بجائے اپنی پسند کا نام دکھانے کی اجازت ہوگی۔ تاہم، اس کے لیے متعلقہ نام کا ٹریڈ مارک رجسٹری یا جی ایس ٹی پورٹل پر کاروباری نام کے طور پر رجسٹرڈ ہونا ضروری ہوگا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔