
تصویر سوشل میڈیا
بھوپال: مدھیہ پردیش میں دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) کے ریزرویشن کے معاملے پر سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف امنگ سنگھار نے وزیر اعلیٰ موہن یادو سے مطالبہ کیا ہے کہ او بی سی ریزرویشن کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے اسمبلی کا خصوصی اجلاس طلب کیا جائے اور اس سلسلے میں قانون منظور کیا جائے۔ دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے کہا ہے کہ ریاستی حکومت پسماندہ طبقات کو ان کا حق دلانے کے لیے سنجیدگی سے کوشش کر رہی ہے۔
دراصل، گزشتہ دنوں جبل پور ہائی کورٹ نے او بی سی کے لیے ریزرویشن کو 14 فیصد سے بڑھا کر 27 فیصد کرنے کے فیصلے کو منسوخ کر دیا تھا۔ اس فیصلے کے بعد ریاست میں ریزرویشن کے معاملے پر سیاسی بحث تیز ہو گئی ہے۔
وزیر اعلیٰ موہن یادو نے منگل کو نئی دہلی میں ہندوستان کے سالیسٹر جنرل تشار مہتا اور مدھیہ پردیش کے ایڈووکیٹ جنرل پرشانت سنگھ کے ساتھ ملاقات کی۔ اس دوران ہائی کورٹ کے فیصلے سے متعلق قانونی پہلوؤں اور آئندہ قانونی کارروائی کی حکمت عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
دوسری جانب قائد حزب اختلاف امنگ سنگھار نے کہا کہ اگر ریاستی حکومت واقعی او بی سی طبقے کو 27 فیصد ریزرویشن دلانا چاہتی ہے تو اسے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے حکم امتناع حاصل کرنے کی کوششوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ اسمبلی کا خصوصی اجلاس بلا کر قانون منظور کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ او بی سی ریزرویشن کے معاملے پر تمام جماعتوں کی میٹنگ پہلے ہی ہو چکی ہے۔ ایسے میں وزیر اعلیٰ کو اسمبلی کا خصوصی اجلاس طلب کرکے اس مسئلے پر فیصلہ کن قدم اٹھانا چاہیے۔ سنگھار نے بی جے پی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسے پسماندہ طبقات کو جھوٹے خواب دکھانا بند کرنا چاہیے۔ اگر حکومت کی نیت صاف ہے تو اسے خصوصی اجلاس بلا کر اپنی سنجیدگی ثابت کرنی چاہیے۔
ادھر بی جے پی کے ریاستی ترجمان اجے سنگھ یادو نے کہا کہ وزیر اعلیٰ موہن یادو کی قیادت میں حکومت او بی سی ریزرویشن کے معاملے پر پوری سنجیدگی سے کام کر رہی ہے۔ ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد تمام قانونی امکانات پر غور کیا جا رہا ہے، تاکہ آئینی اور قانونی دفعات کے مطابق پسماندہ طبقات کو ان کا حق دلانے کے لیے مؤثر کارروائی کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت پسماندہ طبقات کے مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قانونی کوشش کرنے کے عزم پر قائم ہے۔ حکومت اس معاملے میں ضروری قانونی اقدامات کرنے کے لیے پابند عہد ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔