
وزیر اعظم مودی / آئی اے این ایس
وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں ’برکس اجلاس 2026‘ کا آغاز ہو چکا ہے۔ انہوں نے اس موقع پر اجلاس میں موجود تمام ممالک کے سربراہان سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ’’لچک، جدت، تعاون اور پائیداری ہماری ترجیحات رہی ہے۔ اس کے ذریعہ ہم نے برکس تعاون کو عام لوگوں سے جوڑنے پر خصوصی زور دیا ہے۔ اسی سوچ کے ساتھ 350 سے زائد اجلاس منعقد کیے گئے۔ تقریباً 30 شہروں میں آپ کی ٹیموں کا استقبال کرنے کا ہمیں موقع ملا۔ برکس کی صدارت کی حمایت کے لیے میں آپ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ رواں سال کا برکس سربراہی اجلاس ایک تاریخی مرحلے پر ہے۔ ہم برکس کی 20ویں سالگرہ منا رہے ہیں۔‘‘
وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے افتتاحی کلمات میں کہا کہ ’’برکس نے گزشتہ 20 سالوں میں عالمی سطح پر اپنی منفرد شناخت بنائی ہے۔ ہم ایک دوسرے کے نقطۂ نظر کا احترام کرتے ہیں اور اتفاق رائے سے آگے بڑھتے ہیں۔ ہم سب کو ساتھ لے کر آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’اب وقت آ گیا ہے کہ ہم برکس میں اپنے اتحاد اور اتفاق رائے کو عالمی سطح پر ٹھوس نتائج میں تبدیل کریں۔ آئندہ 20 سال کے لیے ہمیں ایک پرعزم ایجنڈے پر کام کرنا ہوگا۔ اس کی شروعات ہمیں اپنے کام کرنے کے نظام سے کرنی ہوگی۔ برکس کی صدارت ہر سال بدلتی ہے لیکن اس کی وجہ سے ہماری ادارہ جاتی ترقی نہیں رکنی چاہیے۔‘‘
مختلف ممالک کے سربراہان سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے مزید کہا کہ ’’برکس کو مضبوط کرتے ہوئے ہمیں عالمی اصلاحات کی سمت بھی طے کرنی ہوگی۔ عالمی حکمرانی کا موجودہ ڈھانچہ ایک پیرامڈ جیسا دکھائی دیتا ہے۔ اس کے بالائی حصے میں طاقت اور فیصلہ سازی مرکوز ہے۔ جبکہ نچلے حصے میں وہ ممالک ہیں جو ان فیصلوں سے متاثر تو ہوتے ہیں لیکن اپنے حجم کی وجہ سے فیصلہ سازی میں شامل نہیں ہو پاتے۔‘‘ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے یہ بھی کہا کہ ’’میں تجویز پیش کرتا ہوں کہ ہم مل کر عالمی حکمرانی میں اصلاحات کے لیے 10 تجاویز تیار کریں، جنہیں ہم آئندہ سربراہی کانفرنس تک برکس اصلاحات کے روڈمیپ کی شکل دے سکتے ہیں۔ اس روڈمیپ کو تیار کرنے میں ہمیں 3 اہم پہلوؤں نمائندگی، جوابدہی اور قوانین کی تشکیل کا خیال رکھنا ہوگا۔ پہلا نمائندگی، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات کو اب مزید ٹالا نہیں جا سکتا۔ ٹیکس پر مبنی مذاکرات کے ذریعے ہمیں اسے آگے بڑھانا ہوگا۔ مالیاتی اداروں میں ووٹنگ کا حق اور اقتصادی پالیسی آج کی حقیقت کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔ جو ممالک عالمی معیشت کو رفتار دیتے ہیں، انہیں مناسب کردار ملنا چاہیے۔‘‘
وزیر اعظم نریندر مودی کے مطابق عالمی اداروں میں لوگوں کا اعتماد اسی وقت قائم ہوگا جب ہم اجتماعی ردعمل پر توجہ دیں گے۔ سمندری نقل و حمل کا عالمی تجارت میں بڑا کردار ہے لیکن اکثر اسے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ میری تجویز ہے کہ کیا ہم ہنگامی بحری انتظام قائم کر سکتے ہیں۔ مستقبل میں قوانین کی تشکیل کے لیے عالمی شراکت داری کو یقینی بنانا اہم ہے۔ مصنوعی ذہانت، اہم ٹیکنالوجی وغیرہ مستقبل کی پالیسی اور قوانین طے کر رہے ہیں۔ ہمیں گلوبل ساؤتھ کو ’رول میکر‘ (قوانین بنانے والا) بنانے پر توجہ مرکوز کرنی ہوگی۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ خوش آئند اتفاق ہے کہ آج اقوام متحدہ کا جنوبی تعاون کا دن (یو این ڈے فار ساؤتھ کوآپریشن) ہے۔ اس دن پر ہماری جانب سے ایسا فیصلہ لیا جانا اہم ہے۔ ہندوستان اس معاملے میں قیادت کرنے کے لیے تیار ہے۔ اس برکس سربراہی اجلاس کا پیغام واضح ہونا چاہیے۔ اگر مستقبل ہمارا ہے تو اس کے فیصلے کرنے کا حق بھی ہمارا ہونا چاہیے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔