
دہلی-این سی آر میں ہوا کا معیار مسلسل خطرناک سطح پر برقرار ہے۔ مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ (سی پی سی بی) کے مطابق آج (6 نومبر 2026) صبح دہلی کا اوسط ایئر کوالیٹی انڈیکس (اے کیو آئی) 389 ریکارڈ کیا گیا، جو ’انتہائی خراب‘ زمرے میں آتا ہے۔ نوئیڈا میں اے کیو آئی 313 (انتہائی خراب زمرہ) اور گروگرام میں بھی ’انتہائی خراب‘ زمرے میں رہا۔ مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ کے صبح 7 بجے کے اعداد و شمار کے مطابق تینوں شہروں کی ہوا کا معیار انتہائی خراب ہے۔ دہلی کے کئی علاقوں میں آلودگی کی سطح 400 سے تجاوز کر گئی ہے۔
آج صبح دہلی-این سی آر کے کئی علاقے دھند اور کہرے کی گہری چادر میں لپٹے نظر آئے۔ ماہرین کے مطابق دہلی-این سی آر میں آنے والے دنوں میں سردی بڑھنے کے ساتھ ہی آلودگی میں مزید اضافے کے پورے امکانات ہیں۔ یعنی آنے والے دنوں میں لوگوں کو سانس لینے میں مزید دشواری ہونے والی ہے۔
روہنی: 473 (انتہائی سنگین)
پنجابی باغ: 464 (انتہائی سنگین)
آر کے پورم: 441 (انتہائی سنگین)
علی پور: 435 (انتہائی سنگین)
سونیا وہار: 435 (انتہائی سنگین)
اوکھلا فیز-2: 426 (انتہائی سنگین)
نارتھ کیمپس، دہلی یونیورسٹی: 424 (انتہائی سنگین)
آئی ٹی او: 420 (انتہائی سنگین)
نجف گڑھ: 412 (انتہائی سنگین)
پوسا: 393 (انتہائی خراب)
چاندنی چوک: 386 (انتہائی خراب)
آنند وہار: 350 (انتہائی خراب)
لودھی روڈ: 306 (انتہائی خراب)
قابل ذکر ہے کہ فضائی معیار کا اشاریہ (اے کیو آئی) 400 سے تجاوز کرنے کے بعد ہوا انتہائی زہریلی ہو جاتی ہے۔ اس خطرناک آلودگی کا اثر صرف پھیپھڑوں کی بیماری یا دمہ کے مریضوں پر ہی نہیں بلکہ مکمل طور پر صحت مند لوگوں کی صحت پر بھی تیزی سے پڑتا ہے۔ آلودگی کی سطح اتنی سنگین ہونے پر جسم میں کئی طرح کی پریشانیاں پیدا ہونے لگتی ہیں۔ کچھ لوگوں کو مسلسل خشک کھانسی کی شکایت رہتی ہے، تو کئی لوگوں کو گلا خشک ہونے یا گلے میں خراش کی پریشانی ہوتی ہے۔ وہیں معمولی جسمانی مشقت، مثلاً سیڑھیاں چڑھنے پر بھی سانس پھولنے لگتا ہے۔
بڑھتی آلودگی کو پیش نظر رکھتے ہوئے لوگوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ صبح اور شام چہل قدمی کرنے سے گریز کریں۔ بہت زیادہ ضروری نہ ہو تو گھر سے باہر نہ نکلیں۔ اگر باہر جانا ضروری ہو تو اچھی طرح فٹ ہونے والا این-95 ماسک پہنیں۔ گھر کی کھڑکیاں اور دروازے بند رکھیں۔ اگر مسلسل کھانسی، سینے میں جکڑن یا سانس پھولنے کی پریشانی ہو رہی ہو تو ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔