قومی خبریں

بسکٹ میں چوکر، دودھ میں ملا ڈٹرجنٹ! ایف ایس ایس اے آئی نے 3 کمپنیوں کے خلاف کارروائی کی

پریاگولڈ بسکٹ بنانے والی کمپنی سوریا فوڈ اینڈ ایگرو کے یہاں معائنے کے دوران استعمال کیے جا رہے خام مال پر سوال اٹھے۔ افسران کے مطابق بسکٹ بنانے میں چوکر کا استعمال کیا جا رہا تھا۔

ایف ایس ایس اے آئی، تصویر آئی اے این ایس
ایف ایس ایس اے آئی، تصویر آئی اے این ایس 

روزمرہ کی زندگی میں استعمال ہونے والی کھانے پینے کی چیزوں کے معیار پر ایک بار پھر سوالات کھڑے ہوئے ہیں۔ فوڈ سیفٹی افسران کی جانچ میں دودھ، بسکٹ اور کشمش سے متعلق کئی معاملات سامنے آئے ہیں۔ ان معاملات میں ڈوڈلا ڈیری، پریاگولڈ بسکٹ بنانے والی کمپنی سوریا فوڈ اینڈ ایگرو اور یوئیر آرگینک فوڈز کے نام شامل ہیں۔ جانچ میں خامیاں سامنے آنے کے بعد متعلقہ کمپنیوں کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔ کچھ دیگر غذائی کاروبار کرنے والوں کو بھی اصولوں پر عمل کرنے کے لیے نوٹس بھیجے گئے ہیں۔

پریاگولڈ بسکٹ بنانے والی کمپنی سوریا فوڈ اینڈ ایگرو کے یہاں معائنے کے دوران استعمال کیے جا رہے خام مال پر سوال اٹھے۔ افسران کے مطابق بسکٹ بنانے میں چوکر کا استعمال کیا جا رہا تھا، جس پر جانوروں کے چارے کے لیے ہونے کی معلومات دی گئی تھی۔ معائنے کے دوران فیکٹری میں صفائی، کیڑوں سے بچاؤ، خام مال کو مناسب طریقے سے رکھنے اور ملازمین کی صفائی سے متعلق خامیاں بھی پائی گئیں۔ اس کے بعد کمپنی کا فوڈ لائسنس معطل کر دیا گیا۔ معاملے میں قانونی کارروائی کو بھی منظوری دی گئی ہے۔

ڈوڈلا ڈیری کے فل کریم دودھ کے نمونے کی جانچ میں اس کے معیار پر کافی سوال اٹھے۔ پہلی جانچ میں دودھ کے اندر فیٹ (چکنائی) کی مقدار مقررہ معیار سے کم پائی گئی۔ اس کے بعد نمونے کو مزید جانچ کے لیے بھیجا گیا۔ دوسری جانچ میں دودھ کو محفوظ کھانے پینے کے معیار کے مطابق نہیں پایا گیا۔ رپورٹ کے مطابق دودھ میں ڈٹرجنٹ یا کاسٹک سوڈا کی موجودگی بھی سامنے آئی۔ اس معاملے میں کمپنی کے خلاف قانونی کارروائی آگے بڑھانے کی منظوری دی گئی ہے۔

فوڈ سیفٹی اتھارٹی نے نارپدھم فوڈز، سن ریجس ہیلتھ کیریئرز اور شاہ کنٹی لال جینتی لال کو بھی نوٹس جاری کیے ہیں۔ ان کاروباریوں کے یہاں صفائی، سامان رکھنے کے طریقے، کیڑوں سے بچاؤ اور ضروری ریکارڈ سے متعلق خامیاں سامنے آئی ہیں۔ افسران نے متعلقہ کاروباریوں سے ان خامیوں پر جواب دینے اور قواعد پر عمل درآمد یقینی بنانے کو کہا ہے۔ اس طرح کی تحقیقات کا مقصد مارکیٹ میں فروخت ہونے والی غذائی اشیاء کے معیار پر نظر رکھنا اور لوگوں تک محفوظ سامان پہنچانا ہے۔ یوئیر آرگینک فوڈز کی آرگینک پیلی کشمش کے نمونے میں مقررہ حد سے زیادہ کیڑے مار ادویات کی باقیات پائی گئیں۔ مزید جانچ میں بھی کچھ کیمیکلز کی مقدار مقررہ معیار سے زیادہ پائی گئی۔ اس کے بعد اس معاملے میں بھی قانونی کارروائی کی منظوری دی گئی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔