قومی خبریں

روس کی راجدھانی ماسکو میں بم دھماکہ، 3 افراد ہلاک، 21 زخمی

ریستوران کی ویب سائٹ کے مطابق ہفتے کے روز ایک نجی تقریب کی وجہ سے ریستوران عام صارفین کے لیے بند رکھا گیا تھا۔ ورنہ ہلاکتوں کی تعداد زیادہ ہو سکتی تھی۔

<div class="paragraphs"><p> دھماکہ، علامتی تصویر آئی اے این ایس</p></div>

دھماکہ، علامتی تصویر آئی اے این ایس

 

روس کی راجدھانی ماسکو کے وسط میں واقع ایک ریستوران میں ہفتے کے روز ہونے والے دھماکے میں کم از کم 3 افراد ہلاک ہو گئے۔ روسی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’آر آئی اے نوووستی‘ کی رپورٹ کے مطابق اس دھماکے میں کم از کم 21 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ تحقیقاتی اہلکار، فرانزک ماہرین اور ایمرجنسی سروس کی ٹیمیں جائے وقوعہ پر کام کر رہی ہیں۔ ’ماسکو انویسٹیگیٹو کمیٹی‘ نے خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ ہلاک ہونے والوں اور زخمیوں کی درست تعداد کا تعین کیا جا رہا ہے، ساتھ ہی ماسکو کے ’کودرِنسکایا اسکوائر‘ میں پیش آنے والے اس حادثے کے حالات کی بھی تفتیش کی جا رہی ہیں۔

ابتدائی میڈیا رپورٹس میں کہا جا رہا تھا کہ ’یہ دھماکہ گیس سلینڈر پھٹنے کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔ لیکن اب انکشاف ہوا ہے کہ ایک خاتون اپنے ساتھ دیسی ساختہ بم لے کر وہاں پہنچی تھی، جس کے پھٹنے سے یہ دھماکہ ہوا۔ ماسکو پولیس نے بتایا کہ یہ دھماکہ مقامی وقت کے مطابق رات تقریباً 8 بجے سے کچھ پہلے ’بالجی روسی‘  نام کے اطالوی ریستوران کے قریب ہوا۔ اس زور دار دھماکے میں بم لے کر جا رہی خاتون اور ریستوران کے ایک سیکورٹی گارڈ اور وہاں موجود ایک صارف کی موقع پر ہی موت ہو گئی۔ جب کہ بم دھماکے میں زخمی ہوئے 21 افراد کا اسپتال میں علاج جاری ہے۔ زخمیوں میں سے کئی افراد کی حالت انتہائی نازک بتائی جا رہی ہے۔

ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ یہ بم ریستوران کے سمر ٹیرس پر موجود مہمانوں کو نشانہ بنانے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بم کو کسی دوسرے شخص نے ریموٹ کنٹرول کے ذریعے بلاسٹ کیا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ بم لے جانے والی خاتون کو اس بات کا علم ہی نہ ہو کہ اس کے پاس کوئی دھماکہ خیز مواد موجود ہے۔ ریستوران کی ویب سائٹ کے مطابق ہفتے کے روز ایک نجی تقریب کی وجہ سے ریستوران عام صارفین کے لیے بند رکھا گیا تھا۔ ورنہ ہلاکتوں کی تعداد زیادہ ہو سکتی تھی۔ فی الحال پولیس اور تحقیقاتی ٹیمیں واقعے کے تمام پہلوؤں کی باریک بینی سے تفتیش کر رہی ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔