
ایک انتخابی جلسہ میں راہل گاندھی کی تقریر سننے کے لیے جمع ہوئی بھیڑ، تصویر ’ایکس‘ @INCIndia
لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے تمل ناڈو کے شہر تیرونیلویلی میں ایک انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے بی جے پی اور آر ایس ایس پر سخت تنقید کی اور ملک کی موجودہ سیاسی صورت حال پر تفصیلی اظہار خیال کیا۔ اپنی تقریر کے آغاز میں راہل گاندھی نے تمل ناڈو میں گزشتہ روز پٹاخہ کے ایک کارخانہ میں پیش آئے المناک آتشزدگی واقعہ پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس حادثے میں جن لوگوں نے اپنے عزیز و اقارب کو کھویا ہے، ان کے ساتھ وہ دلی ہمدردی رکھتے ہیں۔
Published: undefined
تیرونیویلی میں جمع لوگوں کی زبردست بھیڑ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بی جے پی کے نظریۂ ہند پر سوال اٹھایا۔ انھوں نے کہا کہ بی جے پی ایک ایسے ہندوستان کا تصور پیش کر رہی ہے جہاں ’ایک نظریہ، ایک قوم، ایک زبان اور ایک تاریخ‘ مسلط کی جائے۔ دوسری طرف کانگریس اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ ہر ریاست کو خود اپنے معاملات چلانے کا حق ہونا چاہیے، جبکہ بی جے پی چاہتی ہے تمام ریاستیں ایک سیاسی تنظیم کے تابع رہیں۔ یہی اصل سیاسی جدوجہد ہے۔
Published: undefined
راہل گاندھی نے بی جے پی پر الزام عائد کیا کہ وہ ملک میں نفرت، غصہ اور تشدد کو فروغ دے رہی ہے، اور اقتدار کو چند بڑے صنعت کاروں کے ہاتھوں میں مرتکز کر رہی ہے، جس سے ملک میں عدم مساوات بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اقلیتی برادریوں کو خوفزدہ کیا جا رہا ہے، جبکہ کانگریس ایک ہم آہنگ، منصفانہ اور مساوی ہندوستان کی حامی ہے۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ تمل ناڈو انتخاب کا سب سے اہم مقصد بی جے پی اور آر ایس ایس کو ریاست میں داخل ہونے سے روکنا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی ریاست میں ایسی حکومت قائم کرنا چاہتی ہے جو اس کے مکمل کنٹرول میں ہو۔
Published: undefined
راہل گاندھی نے تیرونیویلی کے بعد سری ویکنتم میں بھی ایک انتخابی جلسہ سے خطاب کیا۔ وہاں انھوں نے بہار کی سیاست کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’وہاں کے وزیر اعلیٰ کو ہٹا کر بی جے پی کے ایک رہنما کو اس مقام پر بٹھا دیا گیا، کیونکہ سابق وزیر اعلیٰ ’کمپرومائز‘ ہو چکے تھے اور خاموشی کے ساتھ راجیہ سبھا چلے گئے۔ ان کے مطابق بی جے پی تمل ناڈو میں بھی ایسا ہی ماڈل نافذ کرنا چاہتی ہے، جہاں وزیر اعلیٰ محض مرکزی قیادت کے احکامات پر عمل کرے۔
Published: undefined
راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ امریکہ کے سابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے زیر اثر ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہندوستان اور امریکہ کے درمیان ہونے والے معاہدے نے ملک کے زرعی، صنعتی، ڈاٹا اور توانائی کے مفادات کو نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ڈونالڈ ٹرمپ خود یہ کہتے ہیں کہ جب وہ ہندوستان کے وزیر اعظم کو فون کرتے ہیں تو انہیں ’سر‘ کہہ کر مخاطب کیا جاتا ہے۔
Published: undefined
اپنی تقریر کے اختتام پر راہل گاندھی نے کہا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس چاہے جو خواب دیکھیں، وہ کبھی بھی تمل ناڈو کی حکومت یا وہاں کے عوام پر قابض نہیں ہو سکیں گے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ آئندہ اسمبلی انتخاب میں ان قوتوں کو شکست دے کر ریاست کی خود مختاری اور جمہوری اقدار کا تحفظ کریں۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined