قومی خبریں

بہار: کھگڑیا میں شادی تقریب کے دوران مرغ-بھات کھا کر 50 سے زیادہ افراد بیمار، 3 بچوں کی حالت سنگین

شادی میں مہمانوں اور گاؤں والوں کے کھانے کے لیے چکن چاول پکایا گیا تھا، منگل کی صبح تقریباً 50 لوگوں نے یہ کھانا کھایا جن میں بیشتر بچے تھے، کھانا کھانے کے کچھ دیر بعد ہی لوگوں کی طبیعت بگڑنے لگی۔

<div class="paragraphs"><p>اسپتال، تصویر آئی اے این ایس</p></div>

اسپتال، تصویر آئی اے این ایس

 

بہار کے کھگڑیا میں مرغ-بھات کھا کر 50 سے زیادہ افراد بیمار پڑ گئے ہیں۔ بیمار لوگوں میں بیشتر بچے ہیں اور ان میں سے تین کی حالت سنگین بتائی جا رہی ہے۔ شادی تقریب میں مرغ بھات کھانے کے بعد ان کی طبیعت بگڑنے لگی۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ سبھی لگاتار الٹی کر رہے تھے۔ اس کے بعد انھیں اسپتال لے جایا گیا۔ معاملہ ضلع کے الولی تھانہ حلقہ کے لہڑی گاؤں کے وارڈ 1 کا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ بیمار لوگوں کے اسپتال پہنچنے کا سلسلہ جاری ہے۔

Published: undefined

میڈیا رپورٹس میں کہا جا رہا ہے کہ گوریامی پنچایت کے لہڑی گاؤں میں یوگیشور سدا کی بیٹی کی شادی تھی۔ شادی میں مہمانوں اور گاؤں والوں کے کھانے کے لیے چکن چاول پکایا گیا تھا۔ منگل کی صبح تقریباً 50 لوگوں نے یہ کھانا کھایا جن میں بیشتر بچے تھے۔ کھانا کھانے کے کچھ دیر بعد ہی لوگوں کی طبیعت بگڑنے لگی۔ لوگوں کے بیمار ہونے کے بعد گاؤں میں افرا تفری کا ماحول ہو گیا۔ پھر آناً فاناً میں سب کو الولی پی ایچ سی اور کچھ لوگوں کو کھگڑیا صدر اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ ان میں تین بچوں کی حالت سنگین بتائی جا رہی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ باسی چکن اور چاول کھانے کی وجہ سے لوگوں کی طبیعت بگڑی جبکہ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ چکن میں کوئی زہریلی شئے تھی جس کو کھانے سے لوگوں کی طبیعت بگڑ گئی۔

Published: undefined

ڈاکٹر منیش کمار نے بتایا کہ لوگوں کے بیمار ہونے کے پیچھے فوڈ پوائزننگ کا معاملہ ہے۔ سبھی کا علاج کیا جا رہا ہے۔ ضرورت پڑنے پر انھیں ریفر کیا جائے گا۔ تین بچوں کی طبیعت زیادہ خراب ہے۔ ادھر لوگوں کے بیمار ہونے کی خبر ملنے کے بعد الولی کے رکن اسمبلی رام ورکش سدا جائے حادثہ پر پہنچے اور لوگوں کا حال چال جانا۔ انھوں نے ضلع انتظامیہ سے قصورواروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined