
علامتی تصویر
الیکشن کمیشن اور ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظر ثانی (ایس آئی آر) کے خلاف مہاگٹھ بندھن کی جانب سے آج پٹنہ میں راج بھون مارچ کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس احتجاجی مظاہرے میں راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی)، کانگریس، وی آئی پی، آئی آئی پی اور بائیں بازو کی جماعتوں کے لیڈران اور کارکنان شامل ہوں گے۔ یہ مارچ صبح 11 بجے سپت مورتی کے قریب سے شروع ہوگا، اور گورنر کو میمورنڈم پیش کیا جائے گا، جس میں ایس آئی آر، ووٹر لسٹ اور الیکشن کمیشن کے کام کاج کے طریقۂ کار سے متعلق اپنے مطالبات پیش کیے جائیں گے۔ یہ مارچ تقریباً 2 کلومیٹر تک جاری رہے گا۔ وہیں آج بہار کے تمام ضلعی ہیڈکوارٹروں پر بھی مہاگٹھ بندھن کی جانب سے احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے۔
مہاگٹھ بندھن کے لیڈران اور کارکنان الیکشن کمیشن کے کام کاج کے طریقۂ کار کے خلاف اپنے اعتراضات درج کرائیں گے۔ اس سے قبل بدھ کے روز ریاست بھر کے 534 بلاک ہیڈکوارٹروں پر احتجاجی مارچ نکالا گیا تھا۔ مہاگٹھ بندھن کے پروگرام کے مطابق یہ احتجاج 2 دنوں تک جاری رہے گا۔ پہلے دن بلاک سطح پر احتجاجی مارچ نکالا گیا۔ آج دوسرے دن ضلعی ہیڈکوارٹروں پر دھرنا اور احتجاج کیا جائے گا، جبکہ پٹنہ میں راج بھون مارچ نکالا جائے گا۔ مہاگٹھ بندھن ایس آئی آر اور الیکشن کمیشن سے متعلق مسائل کو لے کر اپنی آواز اٹھائے گا۔
ایس آئی آر اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے مبینہ یک طرفہ فیصلوں اور کارروائی کے خلاف ملک بھر میں اپوزیشن کا احتجاج جاری ہے۔ دہلی میں بدھ کے روز انڈیا اتحاد کے ارکان پارلیمنٹ نے جنتر منتر کے لیے مارچ کیا تھا، لیکن پولیس نے انہیں پہلے ہی روک دیا۔ اس کے بعد پولیس نے کافی جدوجہد کے بعد راہل گاندھی، پرینکا گاندھی سمیت کئی ارکان پارلیمنٹ کو حراست میں لے لیا تھا۔ اپوزیشن نے واضح کر دیا ہے کہ جب تک چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار استعفیٰ نہیں دیتے، تب تک احتجاج جاری رہے گا۔ گزشتہ دنوں انڈیا اتحاد کی میٹنگ میں اس معاملے پر مکمل حکمت عملی تیار کی گئی تھی، اس کے بعد سے انڈیا اتحاد کے لیڈران سڑکوں پر اترے ہوئے ہیں۔ دہلی میں کانگریس لیڈر راہل گاندھی کے ساتھ تمام جماعتوں کے لیڈران احتجاج میں شامل ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔