قومی خبریں

بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین مستعفی، مقررہ مدت سے تقریباً دو سال قبل عہدہ چھوڑ دیا

بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے صحت کی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ ان کے استعفے کو سیاسی پیش رفت اور شیخ حسینہ سے مبینہ رابطے کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>

آئی اے این ایس

 

ڈھاکہ: بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے جمعہ کے روز اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق پارلیمنٹ کے اسپیکر نے ان کا استعفیٰ باضابطہ طور پر قبول کر لیا ہے۔ محمد شہاب الدین کا صدارتی دورِ کار اپریل 2028 تک جاری رہنا تھا، تاہم انہوں نے مقررہ مدت سے تقریباً دو سال قبل ہی عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔

محمد شہاب الدین نے اپریل 2023 میں بنگلہ دیش کے صدر کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالی تھیں۔ جولائی 2024 میں ہونے والے عوامی احتجاج اور اس کے نتیجے میں شیخ حسینہ کی عوامی لیگ حکومت کے اقتدار سے بے دخلی کے بعد وہ ملک کے اعلیٰ ترین آئینی عہدوں پر فائز چند شخصیات میں سے ایک تھے جو اپنے منصب پر برقرار رہے تھے۔

بنگلہ دیش کے معروف اخبار 'دی ڈیلی اسٹار' سے گفتگو کرتے ہوئے محمد شہاب الدین نے اپنے استعفے کی وجہ صحت کے مسائل کو قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ کئی طبی عوارض کا شکار ہیں اور فی الحال اس معاملے پر مزید کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتے۔

تاہم ان کے استعفے کے حوالے سے سیاسی حلقوں میں مختلف قیاس آرائیاں بھی کی جا رہی ہیں۔ 'دی ڈیلی اسٹار' نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ حال ہی میں یہ اطلاع سامنے آئی تھی کہ محمد شہاب الدین نے رواں سال مئی میں علاج کی غرض سے لندن کے دورے کے دوران بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ سے ٹیلی فون پر گفتگو کی تھی۔ بعد ازاں مبینہ طور پر ملک کی خفیہ ایجنسیوں کو اس رابطے کی اطلاع ملی، جس کے بعد ان پر استعفیٰ دینے کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔

اگرچہ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے ایک سینئر رہنما کا کہنا ہے کہ صرف یہ ٹیلی فونک رابطہ استعفے کی واحد وجہ نہیں ہے بلکہ اس معاملے کے پس منظر میں کئی دیگر عوامل بھی کارفرما ہیں۔

جولائی 2024 کے سیاسی بحران کے بعد سے محمد شہاب الدین کے صدر کے عہدے پر برقرار رہنے کو لے کر بنگلہ دیش کی سیاست میں مسلسل بحث جاری تھی۔ ملک کے ایک اور معروف اخبار 'پرتھم آلو' نے بھی اس حوالے سے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ صدر کے منصب اور ان کے مستقبل کے بارے میں سیاسی حلقوں میں کافی عرصے سے اختلافِ رائے موجود تھا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بی این پی کی قیادت والی حکومت عوامی لیگ سے وابستہ رہنماؤں کے خلاف کارروائیوں میں تیزی لا رہی ہے اور ملک میں سیاسی منظرنامہ تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔

محمد شہاب الدین نے رواں سال کے آغاز میں بنگالی اخبار 'کالیر کانتھو' کو دیے گئے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا تھا کہ محمد یونس کی قیادت والی عبوری حکومت کے دور میں انہیں صدر کے منصب سے ہٹانے کی کوشش کی گئی تھی۔ انہوں نے الزام لگایا تھا کہ انہیں اہم سرکاری مشاورت سے دور رکھا گیا اور ملک میں آئینی بحران پیدا کرنے کے لیے مختلف سازشیں کی گئیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ ڈیڑھ برس کے دوران انہیں کسی بھی اہم بحث میں شامل نہیں کیا گیا، اس کے باوجود ان کے خلاف مختلف نوعیت کی سازشیں ہوتی رہیں اور ملک کے آئینی و سیاسی استحکام کو متاثر کرنے کی کوشش کی گئی۔