قومی خبریں

’یوپی میں منمانی اور سیاسی آقاؤں کو خوش کرنے کا کھیل عروج پر‘، افسران کے طریقہ کار سے الٰہ آباد ہائی کورٹ سخت ناراض

الہ آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ ’’گینگسٹر ایکٹ کی کارروائی کو منظوری دینے میں ضروری احتیاط نہیں برتی گئی۔ اس لاپرواہ  کارروائی کی وجہ سے ایک خاتون کو تقریباً 80 دنوں تک عدالتی حراست میں رہنا پڑا۔‘‘

الہ آباد ہائی کورٹ، تصویر آئی اے این ایس
الہ آباد ہائی کورٹ، تصویر آئی اے این ایس 

الہ آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ اترپردیش پولیس کے لیے آئین نہیں، سیاسی آقاؤں کی خوشی بڑی ہے۔ ان کا واحد مقصد منافع بخش تعیناتی کے لیے انہیں خوش کرنا ہے خواہ اس کے لیے انہیں کسی کی غیر قانونی گرفتاری کرنی پڑے یا فرضی انکاؤنٹر، وہ کرنے سے نہیں گھبراتے۔ انہیں یقین ہے کہ ان کے آقا بچا لیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ اتر پردیش میں قانون کی حکمرانی نہیں بلکہ افسروں کی منمانی اور سیاسی آقاؤں کو خوش کرنے کا کھیل عروج پر ہے۔

Published: undefined

اس سخت تبصرہ کے ساتھ جسٹس ونود دیواکر کی سنگل بنچ نے غازی آباد کے نند گرام تھانے میں ایک ہی خاندان کے باپ، بیٹے اور بہو کے خلاف گینگسٹر ایکٹ کے تحت زیر التواء مجرمانہ کارروائی خارج کردی۔ عدالت نے مشاہدہ کیا کہ عرضی گزار راجندر تیاگی، ان کے بیٹے دیپک تیاگی اور بہو للیتا تیاگی کے خلاف جن 2 ایف آئی آر کو بنیاد بنا کر گینگسٹر ایکٹ لگایا گیا تھا، وہ زمین کے لین دین اور مالی تنازعات سے متعلق تھیں۔ ان کی بنیاد پر صرف دھوکہ دہی یا جعلسازی کے الزامات عائد کیے جاسکتے ہیں۔

Published: undefined

ان بنیادوں پر انہیں کسی منظم گروہ کا رکن نہیں مانا جا سکتا۔ اس کے باوجود پولیس کی اس کارروائی کی وجہ سے خاتون کو غیر قانونی طور سے 80 دن تک جیل میں رہنا پڑا۔ عدالت نے کہا کہ 35 سالہ گھریلو خاتون للیتا تیاگی کو ایف آئی آر درج ہونے کے اگلے ہی دن گرفتار کر لیا گیا جب کہ ان کے خلاف گرفتاری کو صحیح ٹھہرانے والی کوئی بنیاد ریکارڈ پر موجود نہیں تھی۔ لہذا، عدالت نے اس گرفتاری کو بادی النظر میں غیر قانونی، من مانی اور خلاف قانون بتایا۔

Published: undefined

عدالت نے غازی آباد کے اس وقت کے پولیس کمشنر اور فی الوقت پریاگ راج زون کے آئی جی اجے کمار مشرا کے کردار پر بھی تبصرہ کیا۔ عدالت نے کہا کہ انہوں نے اپنے ماتحت افسران پر مناسب نظر نہیں رکھی اور گینگسٹر ایکٹ کی کارروائی کو منظوری دینے میں ضروری احتیاط نہیں برتی۔ اس لاپرواہ  کارروائی کی وجہ سے ایک خاتون کو تقریباً 80 دنوں تک عدالتی حراست میں رہنا پڑا۔ پولیس کی اس کارروائی سے برہم عدالت نے اپنے 31 صفحات کے فیصلے میں یوپی پولیس اور اس کے سینئر افسران کے طریقہ کار پر سخت نکتہ چینی کی۔

Published: undefined

عدالت نے کہا کہ افسران کا ایک بڑا  طبقہ قانون کی حکمرانی کو آئینی ذمہ داری نہیں بلکہ اپنی ترقی کی راہ میں رکاوٹ مانتا ہے۔ سیاسی آقاؤں کو خوش کرنے کے جنون میں افسر قانون پر عمل نہیں کرنا چاہتے۔ جب عدالت حکم دیتی ہے تو اس پر باضابطہ عمل کرتے ہیں لیکن آخر میں، وہ اسے بھی ناکام بنا دیتے ہیں۔ عدالت نے ٹھیکہ کلچر اور تقرری سے متعلق عمل پر بھی سخت ناراضگی ظاہر کی۔ اس دوران عدالت نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ افسران کی غیر جانبداری ختم ہو چکی ہے اور وہ اپنی کرسیاں بچانے کے لئے ٹارگٹڈ پراسیکیوشن چلا رہے ہیں۔ جب کہ انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ پولیس کمشنر اور کپتان کے عہدے سیاست دانوں کی ذاتی دشمنی نبھانے یا ان کے سہولت کار نہیں ہیں۔

Published: undefined

عدالت نے کہا کہ یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ بکرو قتل معاملے میں پورے آپریشن کی نگرانی کرنے والے پولیس افسر کو محکمہ جاتی انکوائری کے نتائج کی بنیاد پر محض رسمی وارننگ دے کر چھوڑ دیا گیا تاہم واردات میں گینگسٹر اور اس کے ساتھیوں کو پکڑنے گئی پولیس ٹیم پر گھات لگا کر حملہ کیا گیا۔ ان سب کو نظر انداز کر کے ذمہ دار افسر کو بچانے کی سکاری فراخدلی سمجھ پانے میں عدالت پریشانی محسوس کرتی ہے۔ بڑے افسران کے تئیں دکھائی جانے والی یہ بہت زیادہ فراخدلی انصاف کے خلاف ہے۔ جب سنگین سے سنگین لاپرواہی پر بھی اعلیٰ افسران کی جوابدہی طے  نہیں ہوتی تو ان میں یہ احساس بیٹھ جاتا ہے کہ ان کا کچھ نہیں بگڑے گا۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined