قومی خبریں

’غنڈوں کی خوشامد کرنے سے کبھی فائدہ نہیں ہوتا‘، گرین کارڈ سے متعلق امریکی فیصلہ پر کانگریس کا تلخ تبصرہ

جئے رام رمیش نے کہا کہ ’’یہ کارروائی ایسے وقت میں کی گئی ہے، جب مودی حکومت نے صدر ٹرمپ کو خوش کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتے ہوئے یو پی آئی پر ایم ڈی آر چارجز عائد کیے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>جئے رام رمیش / تصویر: آئی اے این ایس</p></div>

جئے رام رمیش / تصویر: آئی اے این ایس

 

امریکہ میں کام کرنے والے ہندوستانی آئی ٹی ملازمین کے لیے گرین کارڈ حاصل کرنے کا راستہ مشکل ہو گیا ہے۔ امریکی حکومت نے انفوسس، ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز (ٹی سی ایس)، وپرو، ایچ سی ایل ٹیک، کاگنیزنٹ، کیپ جیمنی، مائیکروسافٹ اور ایڈوبی کو گرین کارڈ سے متعلق پرم (PERM) یعنی مستقل لیبر سرٹیفکیشن کے عمل سے معطل کر دیا ہے۔ اس معاملہ میں کانگریس نے حکومت ہند کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے کہا ہے کہ ’’غنڈوں کی خوشامد کرنے سے کبھی فائدہ نہیں ہوتا، یہ بات ایک بار پھر کل امریکی حکومت کے ان اقدامات سے ثابت ہو گئی، جن کا براہ راست نشانہ ہندوستانی آئی ٹی پیشہ ور افراد بنے۔‘‘

یہ تبصرہ جئے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر کیا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ ’’یہ کارروائی ایسے وقت میں کی گئی ہے، جب مودی حکومت نے صدر ٹرمپ کو خوش کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتے ہوئے یو پی آئی پر مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ (ایم ڈی آر) چارجز عائد کیے، جن سے واضح طور پر اور براہ راست امریکی کمپنیوں کو فائدہ پہنچے گا۔‘‘ وہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ ’’ہندوستان کے پاس پارلیمنٹ کے منظور کردہ قوانین، مثلاً ڈیجیٹل پرسنل ڈاٹا پروٹیکشن ایکٹ، 2023 اور اس کے قواعد کے تحت جوابی کارروائی کے کئی متبادل موجود ہیں۔ لیکن ’گیانیش گیٹ‘ کے معاملے میں اب خود گھیرے میں آئے ہوئے ایک ایسے وزیر اعظم، جن کی حیثیت پوری طرح سمجھوتہ شدہ ہوچکی ہے، ایسا نہیں کریں گے۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ امریکی حکومت نے انفوسس، ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز (ٹی سی ایس)، وپرو، ایچ سی ایل ٹیک، کاگنیزنٹ، کیپ جیمنی، مائیکروسافٹ اور ایڈوبی کمپنیوں پر ویزا اور ملازمت سے متعلق قواعد کے غلط استعمال کا الزام لگایا ہے۔ اس فیصلے سے ان کمپنیوں میں کام کرنے والے غیر ملکی ملازمین کے مستقل طور پر امریکہ میں رہنے کے منصوبے متاثر ہوسکتے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق ان کمپنیوں کو 2009 سے اب تک ایک لاکھ سے زیادہ لیبر سرٹیفکیشن مل چکے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔