قومی خبریں

ایک اور ایل پی جی کارگو جہاز پہنچا ہندوستان، عظیم جنگ کے درمیان مضبوط سفارت کاری کا سلسلہ جاری

25 مارچ کو اپالو اوسین 26,687 ٹن گیس لے کر آئے گا۔ انڈین آئل اور بھارت پیٹرولیم کے لیے 29 مارچ کو امریکہ سے ایک اور جہاز 30,000 ٹن گیس لے کر آئے گا،یہ ایک ایچ پی سی ایل کے لیے ہے۔

<div class="paragraphs"><p>فوٹو مرین ٹریفک ڈاٹ کام</p></div>

فوٹو مرین ٹریفک ڈاٹ کام

 
ali

مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ نے حالات کو مزید خراب کر دیا ہے۔ ایران اور امریکہ اسرائیل کے درمیان کشیدگی اپنی انتہا کو پہنچ رہی ہے جس کا سب سے زیادہ اثر آبنائے ہرمز پر پڑ رہا ہے۔ ہندوستان نے آبنائے ہرمز پر اپنا انحصار کم کرنے کے لیے امریکی ایل پی جی سپلائی میں اضافہ کیا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہٹیکساس سے نکلا جہاز ’پکسس پائنیر‘ اتوار کی صبح منگلورو بندرگاہ پر پہنچ گیا۔

Published: undefined

جنگ کی وجہ سے مشرق وسطیٰ کے حالات خراب ہیں۔ ایران اور امریکہ اسرائیل کے درمیان خطے میں جنگ جاری ہے۔ آبنائے ہرمز ایک تنگ سمندری راستہ جس سے دنیا کا 20 فیصد تیل اور گیس گزرتا ہے، سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ ایران نے اس راستے سے گزرنے والے کسی بھی جہاز پر حملہ کرنے کی دھمکی دی تھی۔ یہ سن کر سینکڑوں جہاز وہاں لنگر انداز ہیں۔ کئی ہندوستانی جہاز بھی آبنائے میں پھنسے ہوئے ہیں۔

Published: undefined

اس دوران سوال کیا جارہا ہے کہ اگر گیس کے جہاز نہیں پہنچیں گے تو ہندوستان کی کوکنگ گیس سپلائی کا کیا ہوگا؟ کیا گھر کے چولہے بجھ جائیں گے؟ لیکن کہا جارہا ہے کہ ہندوستان پہلے سے تیار تھا۔ آبنائے ہرمز پر اپنا انحصار کم کرنے کے لیے ہندوستان نے ایل پی جی کے لیے امریکہ سے رابطہ کیا اور اس کے نتائج نظر آرہے ہیں۔پکسس پائینئر اتوار کو صبح بنگلورو بندرگاہ پہنچ گیا۔

Published: undefined

یہ اکیلا نہیں ہے۔ 25 مارچ کو اپالو اوسین 26,687 ٹن گیس لے کر آئے گا۔ انڈین آئل اور بھارت پیٹرولیم کے لیے 29 مارچ کو امریکہ سے ایک اور جہاز 30,000 ٹن گیس لے کر آئے گا،یہ ایک ایچ پی سی ایل کے لیے ہے۔  اس کا مطلب ہے کہ اس ہفتے صرف منگلورو میں 72,700 ٹن سے زیادہ کھانا پکانے والی گیس پہنچے گی۔

Published: undefined

یہ گیس صرف منگلورو کے لیے نہیں ہے۔ ایچ پی سی ایل کی پائپ لائن یہاں سے براہ راست بنگلور اور اس سے آگے جاتی ہے۔ یعنی جنوبی ہندوستان کے لاکھوں گھروں کے چولہے اسی گیس سے جلیں گے۔ ہرمز میں جنگ جاری ہے اور راستہ بند ہے۔ تاہم، ہندوستان بروقت امریکہ تک پہنچا اور سپلائی برقرار رکھی۔ فی الحال ہندوستانی گھروں میں گیس کی کمی نہیں ہونے کی بات کہی جارہی ہے۔

Published: undefined