قومی خبریں

دن رات پانی میں رہنے کو مجبور ناقابل برداشت جلن کے مریض اقبال کی مدد کے لیے آگے آئے اننت امبانی

اقبال کو مغربی بنگال سے ایئرلفٹ کر ممبئی لایا گیا۔ اسے ’سر ایچ این ریلائنس فاؤنڈیشن اسپتال‘ میں بھرتی کرایا گیا ہے، جہاں ڈاکٹر اس کی حالت کی تفصیلی جانچ کر رہے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>ناقابل برداشت جلن کے مریض اقبال (ویڈیو گریب)</p></div>

ناقابل برداشت جلن کے مریض اقبال (ویڈیو گریب)

 

مغربی بنگال کے مرشدآباد کا ایک 16 سالہ نوجوان اقبال شیخ ان دنوں سرخیوں میں ہے۔ ایک پراسرار اور پریشان کن حالات کے باعث وہ اپنا زیادہ تر وقت تالاب کے پانی میں گزارتا تھا۔ اہل خانہ کے مطابق جیسے ہی وہ پانی سے باہر آتا اسے جسم میں تیز جلن محسوس ہوتی تھی۔ کچھ دنوں قبل اس کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی، جس میں بتایا گیا تھا کہ غربت کے باعث وہ اپنا علاج نہیں کرا پا رہا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اب اس کی مدد کے لیے صنعتکار اننت امبانی آگے آئے ہیں اور اسے علاج کے لیے ممبئی لایا گیا۔

ناقابل برداشت جلن میں مبتلا اقبال اپنے خاندان کے ساتھ مرشدآباد میں رہتا ہے۔ اہل خانہ کے مطابق وہ صبح سے لے کر دیر رات تک تالاب میں رہتا تھا۔ کئی بار وہ ایک تالاب سے نکل کر دوسرے تالاب میں چلا جاتا تھا۔ اقبال کی حالت تب زیادہ سرخیوں میں آئی جب سوشل میڈیا پر اس کی ایک ویڈیو سامنے آئی۔ ویڈیو میں وہ تالاب کے پانی میں بیٹھ کر اسنیکس کھاتا ہوا نظر آیا۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد لوگوں کی توجہ اس کی اس غیر معمولی حالت کی طرف گئی اور طبی ماہرین نے بھی اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھا۔

خبر رساں ایجنسی ’اے این آئی‘ کے مطابق اقبال نے بتایا تھا کہ اسے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے مبینہ طور پر کسی مافوق الفطرت قوت نے اس پر قبضہ کر لیا ہو۔ اسی وجہ سے وہ طویل عرصے تک پانی کے اندر رہتا تھا۔ رپورٹ کے مطابق اننت امبانی کو جب یہ خبر ملی تو وہ اقبال کی مدد کے لیے آگے آئے۔ اس کے بعد اقبال کو مغربی بنگال سے ایئرلفٹ کر ممبئی لایا گیا۔ اسے ’سر ایچ این ریلائنس فاؤنڈیشن اسپتال‘ میں بھرتی کرایا گیا ہے، جہاں ڈاکٹر اس کی حالت کی تفصیلی جانچ کر رہے ہیں اور ماہرین کے ذریعہ علاج فراہم کیا جا رہا ہے۔

اقبال کے والدین نے ’اے این آئی‘ کو بتایا کہ انہوں نے پہلے بھی اپنے بیٹے کو اسپتال میں دکھایا تھا، لیکن اس کی حالت میں بہتری نہیں آئی۔ اہل خانہ کے لیے طویل عرصے تک علاج کا خرچ اٹھانا بھی مشکل تھا، اس کے بعد انہوں نے مدد کی اپیل کی۔ اقبال کے گاؤں اور آس پاس کے لوگ بھی اس کی حالت کو لے کر فکر مند تھے۔ وہ اکثر صبح سے دیر رات تک تالاب میں دکھائی دیتا تھا۔ اس کا ایک تالاب سے دوسرے تالاب تک جانا بھی لوگوں کے لیے تشویش کی وجہ بن گیا تھا۔

واضح رہے کہ ڈاکٹروں نے اقبال کو وارننگ دی ہے کہ طویل عرصے تک پانی میں رہنے کی وجہ سے اسے کئی صحت کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ ایس ایس کے ایم اسپتال کے ایک ماہر امراض جلد نے ’اے این آئی‘ کو بتایا کہ طویل عرصے تک پانی میں رہنے سے جلد میں ’میسریشن‘ ہو سکتا ہے۔ اس میں جلد سفید، نرم اور کمزور ہو جاتی ہی جس کے باعث جلن، دراڑ اور انفیکشن کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ ایک دیگر ماہر امراض جلد نے بتایا کہ مسلسل جلد کے گیلے رہنے کے باعث فنگل اور بیکٹیریل انفیکشن کا امکان بڑھ سکتا ہے۔ ڈاکٹروں نے زور دیا ہے کہ اقبال کی مناسب طبی جانچ ضروری ہے اور اسے طویل عرصے تک تالاب میں رہنے سے بچنا چاہیے۔ بہرحال، اب اقبال ممبئی میں ڈاکٹروں کی نگرانی میں ہے۔ سر ایچ این ریلائنس فاؤنڈیشن اسپتال کے ماہرین اس کی حالت کا جائزہ لے رہے ہیں۔ جانچ کے بعد ہی یہ واضح ہو پائے گا کہ اسے پانی میں رہنے کی ایسی خواہش اور باہر نکلنے پر تیز جلن کیوں محسوس ہوتی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔