قومی خبریں

ملک میں غیر اعلانیہ ایمرجنسی نافذ ہے اور ہم اس کے خلاف اپنی لڑائی جاری رکھیں گے: ملکارجن کھڑگے

ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ ’’کل ہم چیف جسٹس آف انڈیا سے ملاقات کرنے جا رہے ہیں۔ میں نے ایک خط لکھا ہے اور راہل گاندھی نے بھی خط لکھا ہے۔ ہماری ملاقات شام 4 سے 5 بجے کے درمیان طے ہوئی ہے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>ملکارجن کھڑگے، تصویر ’ایکس‘ @INCIndia</p></div>

ملکارجن کھڑگے، تصویر ’ایکس‘ @INCIndia

 

کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے نے بنگلورو میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے مرکز کی مودی حکومت پر جم کر حملہ بولا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم اپنی لڑائی جاری رکھیں گے۔ کل ہم چیف جسٹس آف انڈیا سے بھی ملاقات کرنے جا رہے ہیں۔ میں نے ایک خط لکھا ہے اور راہل گاندھی نے بھی خط لکھا ہے۔ ہماری ملاقات شام 4 سے 5 بجے کے درمیان طے ہوئی ہے، جس کے دوران ہم انہیں صورتحال سے آگاہ کریں گے۔ ہم ان سے کوئی مطالبہ نہیں کر سکتے، لیکن ہم ہاتھ جوڑ کر ان کے سامنے اپنے خدشات رکھیں گے اور ان سے مداخلت کی درخواست کریں گے۔‘‘

ملکارجن کھڑگے نے مزید کہا کہ ’’وزیر اعظم اور وزیر داخلہ نے پورے ملک میں افراتفری پیدا کر دی ہے۔ ملک میں غیر اعلانیہ ایمرجنسی نافذ ہے اور ہم اس کے خلاف اپنی لڑائی جاری رکھیں گے۔ کل تقریباً 32000 پولیس اہلکاروں اور 7500 سی آر پی ایف اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا۔ یہ خود ظاہر کرتا ہے کہ نوجوانوں کی تحریک سے حکومت کتنی خوف زدہ ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’جیسا کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں، سڑکیں بند کر دی گئی تھیں، مواصلاتی ذرائع میں خلل ڈالا گیا، ہوائی اڈے تک رسائی محدود کر دی گئی اور موبائل نیٹورک بند کر دیے گئے۔ یہ تمام باتیں ظاہر کرتی ہیں کہ حکومت نہیں چاہتی کہ ہندوستان میں جمہوریت پرامن طریقے سے کام کرے۔‘‘ کانگریس لیڈر نے یہ بھی کہا کہ ’’ہم جمہوریت اور عوام کے آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی لڑائی جاری رکھیں گے۔‘‘

میڈیا سے بات کرتے ہوئے ملکارجن کھڑگے نے یہ بھی کہا کہ ’’الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے۔ یہ ایک آزاد ادارہ ہے اور اسے آزادانہ طور پر فیصلے کرنے کا حق حاصل ہے۔ لیکن اسے آزادانہ طور پر فیصلے کرنے نہیں دیے جا رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے 2 ارکان نے کھل کر انکشاف کیا ہے کہ کمیشن کس طرح کام کر رہا ہے، اس میں کس قسم کی بے ضابطگیاں ہو رہی ہیں اور کمیشن کے ارکان خود اس صورتحال کے بارے میں کیا محسوس کر رہے ہیں۔ اس کے باوجود اس معاملے میں کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ یہ سب اس لیے ہو رہا ہے کیونکہ وہ چاہتے ہیں کہ ووٹ چوری کا سلسلہ جاری رہے۔ اب تک جتنی بھی ووٹ چوری کی گئی ہے، اسی کی بنیاد پر مرکز اور ریاستوں میں حکومتیں بنائی گئی ہیں۔‘‘

ملکارجن کھڑگے کے مطابق ایسا ماحول تیار کرنے کے لیے وزیر اعظم مودی نے 2023 میں ایک قانون بنایا، جس کے ذریعے چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمشنرز کو قانونی تحفظ فراہم کیا گیا۔ انہیں ایسی چھوٹ دی گئی، جو ہندوستان کے صدر یا ملک کے چیف جسٹس کو بھی حاصل نہیں ہے۔ لیکن ایک الیکشن کمشنر کو یہ خصوصی تحفظ کیوں دیا گیا؟ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’یہ تحفظ دینے کے بعد ووٹ چوری، ای وی ایم اور انتخابی دھاندلی کا یہ پورا سلسلہ شروع کیا گیا۔ سی ای سی خواہ کتنی بھی غلطیاں کریں، انہیں زندگی بھر ان غلطیوں کے لیے جوابدہی سے چھوٹ دے دی گئی ہے۔ اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ یہ عوام کے ووٹ چھیننے اور جمہوریت کے ساتھ دھوکہ دہی کرنے کی ایک سازش ہے۔ یہی سب کیا جا رہا ہے اور ہم اس کے خلاف اپنی لڑائی جاری رکھیں گے۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔