
اکھلیش یادو / آئی اے این ایس
سیفئی: سماجوادی پارٹی (ایس پی) کے قومی صدر اکھلیش یادو نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر قانون ساز کونسل کے گریجویٹ اور اساتذہ کے انتخابی حلقوں کے انتخابات میں دھاندلی اور فرضی ووٹنگ کرانے کا الزام لگایا ہے۔ انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کو ووٹ چوری کے لیے ایک یونیورسٹی کھولنی چاہیے اور اپنے کارکنوں کے لیے کم از کم تین سال کا کورس چلانا چاہیے۔
اکھلیش یادو نے جمعہ کو سیفئی میں آگرہ-علی گڑھ گریجویٹ انتخابی حلقے کے لیے ووٹ ڈالنے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بی جے پی انتخابات میں شکست کے خوف سے بوکھلائی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اسمبلی انتخابات میں بھی بے ایمانی کرنے کی کوشش کرے گی، لیکن عوام ایک ایک ووٹ سے اسے شکست دیں گے۔
ایس پی سربراہ نے الزام لگایا کہ اساتذہ اور گریجویٹ انتخابی حلقوں کے انتخابات میں محدود تعداد میں ووٹر ہونے کے باوجود بی جے پی کو ہار کا خوف ستا رہا ہے۔ ان کے مطابق، بی جے پی سے وابستہ لوگوں نے فرضی ووٹنگ اور انتخابی بے ضابطگیوں کی کوشش کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سماجوادی پارٹی کے ووٹروں کو ووٹ ڈالنے سے روکنے کے لیے غنڈوں اور بدعنوان افسران کا سہارا لیا گیا۔
اکھلیش یادو نے کہا کہ ریاست کے مختلف حصوں سے ایسی شکایات موصول ہوئی ہیں کہ بی جے پی سے وابستہ لوگوں نے فرضی ووٹنگ کی کوشش کی اور ایس پی کے ووٹروں کو روکنے کی کوشش کی۔ انہوں نے انتظامیہ پر خاموش تماشائی بنے رہنے اور الیکشن کمیشن پر شکایات کے باوجود مؤثر کارروائی نہ کرنے کا الزام بھی لگایا۔ طنز کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے جیسے الیکشن کمیشن کے لوگ نیند کی گولیاں کھا کر سو گئے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی ووٹ چوری اور انتخابی دھاندلی کے ذریعے جمہوریت کو کمزور کر رہی ہے۔ ان کے مطابق، سماجوادی پارٹی 2022 سے ہی ووٹر لسٹ میں مبینہ بے ضابطگیوں اور ووٹ چوری کے معاملات اٹھاتی رہی ہے۔ انہوں نے ووٹر لسٹ میں گڑبڑیوں کے سلسلے میں بی جے پی اور الیکشن کمیشن کے درمیان ملی بھگت کا الزام بھی لگایا۔
اکھلیش یادو نے کہا کہ بی جے پی نے اساتذہ اور نوجوانوں کے لیے کوئی قابل ذکر کام نہیں کیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ مرکز اور ریاست میں طویل عرصے سے اقتدار میں رہنے کے باوجود پارٹی کو انتخابات جیتنے کے لیے مبینہ غنڈہ گردی اور فرضی ووٹنگ کا سہارا کیوں لینا پڑ رہا ہے۔
ایس پی سربراہ نے دعویٰ کیا کہ ان کی پارٹی آئندہ اسمبلی انتخابات کے لیے تیار ہے اور انڈیا اتحاد بی جے پی کو شکست دے گا۔ انہوں نے کہا کہ 2027 کے اسمبلی انتخابات میں عوام بی جے پی کا صفایا کر دیں گے۔
ریاستی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے بدعنوانی، مہنگائی، بے روزگاری اور ناانصافی کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت میں ریزرویشن کو کمزور کیا جا رہا ہے، پرائمری اسکول بند ہو رہے ہیں اور شراب کی دکانیں کھولی جا رہی ہیں۔ ان کے مطابق، نوجوانوں کو مناسب روزگار نہیں ملا، صحت کی خدمات بدحال ہیں اور کئی اسپتالوں کی حالت ایسی ہے کہ انہیں خود علاج کی ضرورت ہے۔
اکھلیش یادو نے پولیس نظام میں بدعنوانی، ایکسپریس وے کی خراب حالت اور کسانوں کو کھاد کی عدم دستیابی کا معاملہ بھی اٹھایا۔ انہوں نے مرکز کی تجارتی اور خارجہ پالیسی پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ کھاد کے لیے ضروری کیمیائی مادوں کی فراہمی متاثر ہونے سے کسانوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے عوام سے کیے گئے وعدے پورے نہیں کیے اور اب جب لوگ سوال پوچھ رہے ہیں تو پارٹی بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔