
آئی اے این ایس
احمد آباد: گجرات کے شہر احمد آباد میں نیٹ کی تیاری کرنے والے 17 سالہ طالب علم کی موت کے معاملے نے سب کو افسردہ کر دیا ہے۔ طالب علم نے مبینہ طور پر اپنے رہائشی فلیٹ سے کود کر جان دے دی۔ واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد سابرمتی پولیس موقع پر پہنچی اور قانونی کارروائی شروع کرتے ہوئے معاملے کی جانچ کا سلسلہ شروع کر دیا۔
Published: undefined
خبررساں ادارے آئی اے این ایس کے مطابق اس معاملے کے بارے میں اسسٹنٹ پولیس کمشنر دگ وجے سنگھ رانا نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ سابرمتی پولیس تھانے کو دیر رات اطلاع ملی تھی کہ ایک طالب علم نے فلیٹ سے کود کر اپنی جان دے دی ہے۔ اطلاع ملتے ہی پولیس کی ٹیم موقع پر پہنچی اور ابتدائی کارروائی انجام دی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ طالب علم کے ماموں سے بھی رابطہ کیا گیا ہے جبکہ آخری رسومات کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔
Published: undefined
دگ وجے سنگھ رانا کے مطابق متوفی طالب علم نے نیٹ کا امتحان دیا تھا اور اس کا ماننا تھا کہ امتحان اچھا ہوا ہے۔ اسے امید تھی کہ نتائج اس کی توقعات کے مطابق آئیں گے۔ پولیس کے مطابق طالب علم اپنی کارکردگی کو لے کر پُرجوش بھی تھا اور اس نے کبھی امتحان کے حوالے سے اپنی والدہ کے ساتھ کسی تشویش یا پریشانی کا اظہار نہیں کیا تھا۔ دو روز قبل اس نے فارما کے لیے فارم بھی پُر کیا تھا۔
پولیس افسر نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ طالب علم کم گو اور تنہائی پسند مزاج کا تھا۔ وہ اپنی باتیں دوسروں سے کم ہی شیئر کرتا تھا، تاہم کبھی کبھار اپنی والدہ اور ماموں سے گفتگو کرتا تھا۔ اس کے والد پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں اور سورت میں رہتے ہیں۔
Published: undefined
انہوں نے مزید بتایا کہ سابرمتی پولیس تھانے میں بھارتیہ نیائے سنہتا کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ آخری رسومات کے بعد طالب علم کے والدین اور ماموں سے تفصیلی پوچھ گچھ کی جائے گی۔ اس کے علاوہ اس کے ساتھ تعلیم حاصل کرنے والے دیگر طلبہ سے بھی معلومات حاصل کی جائیں گی۔ ضرورت پڑنے پر طالب علم کے لیپ ٹاپ کو فارنسک سائنس تجربہ گاہ بھیجا جائے گا تاکہ اس سے مزید شواہد حاصل کیے جا سکیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ تمام پہلوؤں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں اور تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی واقعے کی اصل وجوہات کے بارے میں واضح طور پر کچھ کہا جا سکے گا۔
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined