قومی خبریں

لکھنؤ آتشزدگی کے بعد وارانسی میں غیرقانونی کوچنگ سنٹرز پر کارروائی، اب تک 35 عمارتیں کی گئیں سیل

گزشتہ 2 دنوں میں وارانسی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (وی ڈی اے) نے 2 درجن سے زائد کوچنگ سنٹرز اور عمارتوں کو ضوابط کے خلاف چلائے جانے پر سیل کر دیا ہے۔

علامتی تصویر
علامتی تصویر 

لکھنؤ کے علی گنج میں واقع ایک کوچنگ سنٹر میں لگنے والی ہولناک آگ کے بعد وارانسی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (وی ڈی اے)  کی جانب سے منمانے طریقے سے چلائے جانے والے کوچنگ سنٹرز، لائبریریوں اور کمرشیل کمپلیکسز کے خلاف سخت کارروائی کی جا رہی ہے۔ اتھارٹی کی طرف سے 15 دنوں کی ایک خصوصی مہم شروع کی گئی ہے۔ گزشتہ 2 دنوں میں وی ڈی اے نے 2 درجن سے زائد کوچنگ سنٹرز اور عمارتوں کو ضوابط کے خلاف چلائے جانے پر سیل کر دیا ہے۔ ایسے میں اب اس کارروائی سے بچنے کے لیے کئی کوچنگ سنٹرز نے پہلے ہی اپنے سنٹرز پر تالے لگا دیے ہیں۔ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی آگے بھی جاری رہے گی۔

Published: undefined

ہنددی نیوز پورٹل ’اے بی پی نیوز‘ پر شائع خبر کے مطابق لکھنؤ میں لگنے والی بھیانک آگ کے بعد قواعد و ضوابط کے خلاف چلنے والے کوچنگ سنٹرز، لائبریریوں اور کمرشل عمارتوں پر وارانسی ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی کارروائی مسلسل جاری ہے۔ گزشتہ 2 دنوں میں قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر 35 سے زائد کوچنگ سنٹرز اور عمارتوں کو سیل کر دیا گیا ہے۔ اب اس کے بعد وارانسی کے مختلف علاقے جہاں کوچنگ سنٹرز میں طلبہ کا بھاری ہجوم رہتا تھا وہاں اب تالے لٹکے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ وارانسی ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے فیصلے کے مطابق اگلے 15 دنوں تک ضلع کے مختلف زون میں قوانین کے خلاف چلنے والی عمارتوں پر کارروائی جاری رہے گی۔

Published: undefined

واضح رہے کہ تعلیم کا مرکز مانے جانے والا وارانسی اب کوچنگ سنٹرز کا بھی ایک بہت بڑا ہب بن چکا ہے۔ یہاں میڈیکل، جے ای ای اور سرکاری ملازمتوں کی تیاری کے لیے دوسرے ریاستوں سے لاکھوں کی تعداد میں طلبہ پہنچتے ہیں۔ ایسے میں جب سے لکھنؤ کا واقعہ پیش آیا ہے تب سے ہی کوچنگ سنٹرز کو لے کر انتظامیہ پوری طرح الرٹ موڈ میں نظر آ رہی ہے۔ گزشتہ 2 دنوں میں وارانسی ضلع میں ضوابط کے خلاف چلنے والے 2 درجن سے زائد کوچنگ سنٹرز کو سیل کر دیا گیا ہے۔

Published: undefined

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined