قومی خبریں

اتحادی پارٹیوں کے ساتھ میٹنگ کے بعد کانگریس نے آسام میں حکومت سازی کا کیا دعویٰ، ایگزٹ پول کو کیا خارج

میٹنگ کے بعد آسام کانگریس کے صدر گورو گگوئی نے دعویٰ کیا کہ اتحاد آرام سے حکومت بنائے گا اور ریاست کی عوام کسانوں، نوجوانوں و خواتین نے تبدیلی کے لیے جو ووٹ دیا ہے، وہ بے کار نہیں جائے گا۔

<div class="paragraphs"><p>ڈی کے شیوکمار</p></div>

ڈی کے شیوکمار

 

’آسام اسمبلی اتنخاب 2026‘ کے نتائج سے پہلے سیاسی ہلچل تیز ہو گئی ہے۔ کانگریس اور اس کی ساتھی پارٹیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ریاست میں ان کی حکومت بننے جا رہی ہے۔ انھوں نے ایگزٹ پول کو ماحول بنانے کی کوشش قرار دیا اور میڈیا ہاؤس کی پیشین گوئیوں کو پوری طرح سے خارج کر دیا۔

Published: undefined

ہفتہ کے روز کانگریس کے سینئر مبصر ڈی کے شیو کمار، بھوپیش بگھیل اور جتیندر سنگھ نے آسام میں اتحادی پارٹیوں کے ساتھ انتہائی اہم میٹنگ کی۔ میٹنگ کے بعد آسام کانگریس کے صدر گورو گگوئی نے دعویٰ کیا کہ اتحاد آرام سے حکومت بنائے گا اور ریاست کی عوام کسانوں، نوجوانوں و خواتین نے تبدیلی کے لیے جو ووٹ دیا ہے، وہ بے کار نہیں جائے گا۔ انھوں نے ایگزٹ پول کو برسراقتدار پارٹی کی حکمت عملی قرار دیتے ہوئے کہا کہ 4 مئی کو نتائج سامنے آئیں گے اور اس سے قبل سبھی کو اسٹرانگ روم پر نظر رکھتے ہوئے ووٹ شماری کی تیاری کرنی ہوگی۔

Published: undefined

قابل ذکر ہے کہ آسام میں کانگریس نے رائجور پارٹی، آسام جاتیہ پریشد (اے جے پی)، سی پی آئی (ایم)، اے پی ایچ ایل سی اور سی پی آئی (ایم ایل) کے ساتھ مل کر انتخاب لڑا ہے۔ یہ سبھی پارٹیاں حکومت سازی کو لے کر پُراعتماد دکھائی دے رہی ہیں۔ میٹنگ کے بعد کرناٹک کے نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے بھی ایگزٹ پول کو خارج کرتے ہوئے کہا کہ ووٹرس میں خوف کا ماحول ہے، اس لیے لوگ کھل کر اپنی رائے نہیں رکھ پائے۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی سے متفق نہیں ہونے والوں کو سرکاری منصوبوں کا فائدہ نہیں مل رہا ہے اور ان کی ٹیم مضبوط و متحد ہے۔ شیوکمار نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بی جے پی کے کچھ لیڈران شکست کے اندیشہ کو دیکھتے ہوئے کانگریس کے رابطہ میں آنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انھوں نے پارٹی کے داخلی سروے کا بھی ذکر کیا، جس میں کانگریس اتحاد کی حکومت بننے کا اشارہ مل رہا ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined