قومی خبریں

’ووٹنگ کا حق خطرے میں‘، جسٹس اُجول بھوئیاں کے بعد جسٹس نریمن نے بھی کیا اظہارِ فکر

جسٹس روہنٹن فالی نریمن نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مغربی بنگال میں 90 لاکھ ووٹرز کے نام کٹنے کے باوجود سپریم کورٹ نے ووٹر لسٹ کے ایس آئی آر پر روک لگانے کے لیے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا۔

<div class="paragraphs"><p>سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس روہنٹن نریمن&nbsp;<a href="https://x.com/barandbench">@barandbench</a></p></div>

سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس روہنٹن نریمن @barandbench

 

ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے خلاف آواز اٹھنے کا سلسلہ دن بہ دن دراز ہوتا جا رہا ہے۔ الیکشن کمیشن پر ووٹرز کے نام حذف کرنے اور ان کے حقِ رائے دہی کو نظر انداز کرنے کے الزامات نے گزشتہ کچھ دنوں میں سیاسی ہلچل کو خوب بڑھا دیا ہے۔ اس معاملے پر ججوں نے بھی آواز بلند کرنی شروع کر دی ہے۔ جسٹس اجول بھوئیاں کے بعد جسٹس روہنٹن فالی نریمن نے بھی ایس آئی آر معاملہ پر اپنی شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس روہنٹن فالی نریمن نے الیکشن کمیشن آف انڈیا کے کام کاج پر فکر ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’آپ ایسا الیکشن کمیشن نہیں رکھ سکتے جو اس طرح کام کرے یا ٹھیک سے کام نہ کرے۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔