
ابھیشیک بنرجی، تصویر آئی اے این ایس
ترنمول کانگریس کے قومی جنرل سکریٹری اور رکن پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی نے بھارتیہ جنتا پارٹی پر شدید سیاسی حملہ کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ مغربی بنگال میں قانون کی حکمرانی کو سیاسی مفادات کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری ایجنسیاں اور حکمراں جماعت اپنے سیاسی مقاصد کے لیے ریاست میں جمہوری اداروں اور آئینی اصولوں کو کمزور کر رہی ہیں، جس کے نتیجے میں عوام کے بنیادی حقوق متاثر ہو رہے ہیں۔
Published: undefined
ابھیشیک بنرجی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ مختلف سرکاری ایجنسیاں شہریوں کو بغیر کسی پیشگی اطلاع کے حراست میں لے رہی ہیں، جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے کارکن ترنمول کانگریس کے کارکنوں پر حملے کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق بعض مقامات پر پارٹی کارکنوں کو کمر میں رسی باندھ کر گھمایا گیا، ان پر پتھراؤ کیا گیا اور انہیں شدید زخمی کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض عناصر قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر ریاست کے مختلف علاقوں میں تشدد کو فروغ دے رہے ہیں۔
Published: undefined
ترنمول کانگریس کے رہنما نے مزید الزام لگایا کہ سیاسی جماعتوں کو توڑنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، مخالفین کے بینک کھاتے منجمد کیے جا رہے ہیں اور منتخب عوامی نمائندوں پر سیاسی دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو ارکان اسمبلی اپنی جماعت چھوڑنے سے انکار کرتے ہیں، انہیں جھوٹے مقدمات میں پھنسا کر جیل بھیج دیا جاتا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر بھارتیہ جنتا پارٹی کو واقعی عوامی حمایت حاصل ہے تو پھر اسے سیاسی مخالفین کے خلاف ایسے اقدامات کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے اور اختلاف رائے کو دبانے کی کوشش کیوں کی جا رہی ہے۔
ابھیشیک بنرجی نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ ملک کی ایک ریاست میں موجودہ وزیر اعلیٰ مبینہ طور پر رشوت لیتے ہوئے کیمرے میں قید ہوئے تھے، جبکہ اسی جماعت پر اب رام مندر کے لیے موصول ہونے والے نذرانے میں مبینہ بے ضابطگیوں کے الزامات بھی لگ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو جماعت خود کو مذہبی اقدار کی محافظ قرار دیتی ہے، اس پر ایسے الزامات عوامی اعتماد کو متاثر کرتے ہیں۔
Published: undefined
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حالات میں ایماندار اور اپنے مؤقف پر قائم رہنے والے افراد کو جیل بھیجا جا رہا ہے، جبکہ بدعنوان عناصر سیاسی سمجھوتے کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی میں شامل ہو کر کارروائی سے بچ جاتے ہیں۔ ان کے مطابق حکمراں جماعت کا مقصد صرف انتخابات میں کامیابی حاصل کرنا نہیں بلکہ ایسا سیاسی ماحول قائم کرنا ہے جہاں مؤثر اپوزیشن باقی نہ رہے اور شہریوں سے اختلاف، سوال اٹھانے اور حکومت پر تنقید کرنے کا حق بھی چھین لیا جائے۔
ابھیشیک بنرجی نے الزام عائد کیا کہ مغربی بنگال کو ایک ایسی ریاست میں تبدیل کیا جا رہا ہے جہاں پولیس اور انتظامی نظام کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، تاہم انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں حتمی اختیار عوام کے پاس ہوتا ہے، کسی سیاسی جماعت کے پاس نہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک کے عوام تمام واقعات پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور وقت آنے پر ان کا فیصلہ سامنے آئے گا۔
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined