مدھیہ پردیش کے ساگر ضلع میں زہریلی شراب پینے سے 9 افراد کی موت ہو گئی، جبکہ 35 دیگر افراد کو اسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق زیر علاج افراد میں سے کچھ کی حالت تشویش ناک بتائی جا رہی ہے اور انہیں بندیل کھنڈ میڈیکل کالج اور ساگر کے ضلعی اسپتال ریفر کیا گیا ہے۔ ضلعی کلکٹر پرتیبھا پال نے کہا کہ ’’ اتوار کی صبح سے ہی غیر قانونی شراب کے استعمال سے مبینہ طور پر بیماریوں اور اموات کی خبریں ملی ہیں اور سول اسپتال میں جانچ جاری ہے۔‘‘
پرتیبھا پال نے مزید کہا کہ متاثرہ علاقوں میں طبی ٹیمیں اور افسران تعینات کیے گئے ہیں تاکہ ان لوگوں کی جانچ کی جا سکے جنہوں نے شاید شراب پی ہو۔ ان علاقوں میں نورا اور گھوگرو گاؤں شامل ہیں۔ متاثرہ مریضوں کا علاج کر رہے ڈاکٹروں نے سائنوسس یعنی جسم کا نیلا پڑ جانا اور پٹھوں میں اکڑن جیسی علامات کی اطلاع دی ہے۔ ضلعی کلکٹر پرتیبھا پال نے ان تمام لوگوں سے اپیل کی ہے جنہوں نے گزشتہ 24 سے 48 گھنٹوں کے دوران کسی بھی قسم کی شراب پی ہو، یا جن میں علامات ظاہر ہو رہی ہوں، وہ فوری طور پر طبی جانچ کرائیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔