قومی خبریں

’4 سال گزر چکے ہیں لیکن آج بھی اہل خانہ انصاف کے منتظر‘، انکیتا بھنڈاری کے والدین سے راہل گاندھی نے کی ملاقات

راہل گاندھی نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’ہندوستان تب تک آگے نہیں بڑھ سکتا، جب تک خواتین کو مردوں کے استعمال کی چیز سمجھنے والی غیر انسانی ذہنیت ختم نہیں ہوتی۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>انکیتا بھارتی کے والدین کے ساتھ راہل گاندھی،&nbsp;<a href="https://x.com/RahulGandhi">@RahulGandhi</a></p></div>

انکیتا بھارتی کے والدین کے ساتھ راہل گاندھی، @RahulGandhi

 

لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس رہنما راہل گاندھی نے 2022 کے انکیتا بھنڈاری قتل کیس کے حوالے سے ہفتے کے روز بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ حکمراں جماعت میں مجرموں کو بچانے کی ایک بیمار ذہنیت ہے۔ واضح رہے کہ اتراکھنڈ کے ایک ریزورٹ میں 19 سالہ ریسپشنسٹ انکیتا بھنڈاری کو قتل کر دیا گیا تھا۔ راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر انکیتا بھنڈاری سے ملاقات کی ایک تصویر شیئر کی۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’’انکیتا بھنڈاری کے اہل خانہ سے 2 روز قبل ملاقات کی۔ 4 سال گزر چکے ہیں لیکن آج بھی وہ انصاف کا انتظار کر رہے ہیں، اپنی بچی کے خلاف ایک ایسے جرم کے لیے جس کی کوئی معافی نہیں ہے۔‘‘

اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں راہل گاندھی مزید لکھتے ہیں کہ ’’صرف 19 سال کی انکیتا وننترا ریزورٹ میں ریسپشنسٹ تھیں جہاں ایک ’وی آئی پی‘ مہمان کے شرمناک مطالبے کی مخالفت کرنے پر چیلا نہر میں ڈبو کر ان کا قتل کر دیا گیا۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ نے تشدد اور ڈبونے کے ثبوتوں کی بھی تصدیق کی تھی۔ لیکن ریزورٹ میں انکیتا کے کمرے کو کسی بھی قسم کی تحقیقات ہونے سے قبل ہی منہدم کر دیا گیا، جو کہ خود میں انتہائی مشکوک ہے۔‘‘

راہل گاندھی کے مطابق اس افسوسناک معاملے میں سب سے شرمناک بات یہ ہے کہ ریاستی حکومت خود آج تک اس ’وی آئی پی‘ کو تحفظ دے رہی ہے۔ کیوں؟ کیونکہ وہ بی جے پی -آر ایس ایس کا بڑا لیڈر ہے۔ یہی بی جے پی کی بیمار ذہنیت ہے، عصمت دری کرنے والوں اور مجرموں کو بچانا، انہیں سیاسی تحفظ فراہم کرنا، یہاں تک کہ عصمت دری کے مجرموں کا پھول مالاؤں سے استقبال کرنا۔ وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’’دنیا میں سب سے گھناؤنے انسان وہ ہوتے ہیں جو عصمت دری کرنے والوں کی حفاظت کرتے ہیں اور بی جے پی میں ایسے لوگوں کی بھرمار ہے۔‘‘

کانگریس رہنما راہل گاندھی اپنی ’ایکس‘ پوسٹ کے آخر میں لکھتے ہیں کہ ’’ہندوستان تب تک آگے نہیں بڑھ سکتا، جب تک خواتین کو مردوں کے استعمال کی چیز سمجھنے والی یہ غیر انسانی ذہنیت ختم نہیں ہوتی۔ ہندوستان صرف اسی وقت آگے بڑھے گا، جب ہندوستان کی خواتین آگے بڑھیں گی، عزت، سیکورٹی، برابری اور انصاف کے ساتھ۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔