طلبا کی علامتی تصویر
سی بی ایس ای 12ویں جماعت کے نتائج کو لے کر شروع ہوا تنازعہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ ریزلٹ جاری ہونے کے بعد سے ہی طلبا اور والدین کی بڑی تعداد نمبرات اور جانچ کے عمل پر سوال اٹھا رہی ہے۔ اسی بڑھتے ہوئے تنازعے کے درمیان سی بی ایس ای نے آج سے ’ری-ایویلویشن‘‘ یعنی دوبارہ جانچ کی ونڈو کھول دی ہے۔ بورڈ اس وقت آن-اسکرین مارکنگ (او ایس ایم) سسٹم میں سامنے آئی تکنیکی خرابیوں، بار بار کریش ہونے والے پورٹل اور طلبا کے ٹوٹتے اعتماد جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہے۔
Published: undefined
صورتحال کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اب تک 4 لاکھ سے زیادہ طلبا اپنی جوابی کاپیوں کی دوبارہ جانچ کے لیے درخواست دے چکے ہیں۔ ان طلبا نے مجموعی طور پر 11 لاکھ سے زائد جوابی کاپی دیکھنے کی مانگ کی ہے۔ اگرچہ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے اشارہ دیا ہے کہ ان میں سے تقریباً 20 فیصد طلبا ہی آخرکار مکمل ری-ایویلویشن کا راستہ اختیار کریں گے، لیکن موجودہ اعداد و شمار نے سی بی ایس ای کی جانچ کے نظام پر عوامی اعتماد کو سخت دھچکا پہنچایا ہے۔
Published: undefined
سی بی ایس ای کی جانب سے جاری سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 4 لاکھ 4 ہزار 319 طلبا نے اپنی جوابی کاپیاں دیکھنے کے لیے درخواست دی۔ مجموعی طور پر 11 لاکھ 31 ہزار 961 جوابی کاپیوں کی مانگ کی گئی، جن میں سے 8 لاکھ 98 ہزار 214 کاپیاں طلبا کو ڈیجیٹل شکل میں فراہم بھی کی جا چکی ہیں۔ یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ بڑی تعداد میں طلبا اپنے نتائج سے مطمئن نہیں ہیں۔
Published: undefined
اصل تنازعہ اس سال متعارف کرائے گئے نئے ’آن-اسکرین مارکنگ سسٹم‘ سے شروع ہوا۔ اس نظام کے تحت امتحان لینے والے اساتذہ کو روایتی کاغذی کاپیوں کے بجائے ان کی اسکین شدہ ڈیجیٹل کاپیوں کی اسکرین پر جانچ کرنی تھی۔ بورڈ نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نئے نظام سے جانچ کا عمل زیادہ تیز، شفاف اور مؤثر ہوگا، لیکن ریزلٹ جاری ہوتے ہی سوشل میڈیا پر شکایات کی باڑ آ گئی۔ کئی طلبا نے الزام لگایا کہ انہیں توقع سے بہت کم نمبر دیے گئے۔ بعض جوابی کاپیوں میں کئی سوالات بغیر جانچ کے چھوڑ دیے گئے تھے، جبکہ کئی اسکین شدہ صفحات دھندلے اور نامکمل پائے گئے۔ اس کے علاوہ جب طلبا نے اپنی جوابی کاپی دیکھنے کی کوشش کی تو سی بی ایس ای کا آفیشل پورٹل بار بار کریش ہونے لگا، جس سے طلبا اور والدین کی پریشانی مزید بڑھ گئی۔
Published: undefined
شدید عوامی دباؤ اور تنقید کے بعد سی بی ایس ای کو اپنی فیس پالیسی میں بڑی تبدیلی کرنی پڑی۔ بورڈ نے ریویو اور ری-ایویلویشن سے متعلق فیس میں نمایاں کمی کا اعلان کیا ہے۔ اب اسکین شدہ کاپی حاصل کرنے کے لیے صرف 100 روپے فی مضمون ادا کرنے ہوں گے، جبکہ پہلے اس کے لیے 700 روپے لیے جاتے تھے۔ اسی طرح مارکس ویریفکیشن کی فیس 500 روپے سے کم کر کے 100 روپے فی مضمون کر دی گئی ہے۔ ری-ایویلویشن کے لیے بھی اب صرف 100 روپے فی سوال ادا کرنے ہوں گے۔ بورڈ نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ اگر دوبارہ جانچ کے بعد کسی طالب علم کے نمبر بڑھتے ہیں تو ری-ایویلویشن کی فیس واپس کر دی جائے گی۔ اس فیصلے کو طلبا کے لیے ایک بڑی راحت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
Published: undefined
ری-ایویلویشن کے لیے طلبا کو چند مراحل سے گزرنا ہوگا۔ سب سے پہلے انہیں اپنی جانچی گئی جوابی کاپی کی اسکین کاپی حاصل کرنی ہوگی۔ اس کے بعد کاپی کا باریک بینی سے جائزہ لینا ہوگا تاکہ معلوم ہو سکے کہ تمام سوالات چیک کیے گئے ہیں یا نہیں، نمبرات کا مجموعہ درست ہے یا نہیں اور کہیں کوئی صفحہ غائب تو نہیں۔ اگر کسی قسم کی گڑبڑی نظر آتی ہے تو طلبا پہلے مارکس ویریفکیشن کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔ اس کے بعد مخصوص سوالات کے لیے ری-ایویلویشن کی اپیل کی جا سکتی ہے۔ اس درمیان سی بی ایس ای نے واضح کیا ہے کہ دوبارہ جانچ کے بعد نمبر بڑھ بھی سکتے ہیں، کم بھی ہو سکتے ہیں یا پھر پہلے جیسے رہ سکتے ہیں، اور نظرثانی کے بعد جاری ہونے والا نتیجہ ہی حتمی مانا جائے گا۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined