قومی خبریں

’کیلاش-مانسروور یاترا‘ کے دوران نیپال میں سیلاب سے بال بال بچے آندھرا پردیش کے 26 زائرین بحفاظت وطن واپس

الیوینی نے کہا کہ ’ایک دن قبل جب ویزے میں تاخیر ہوئی تو سب بہت مایوس تھے، اور ڈر تھا کہ شاید ہم جا ہی نہ پائیں۔ جب ویزا ملا تو ہماری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہا۔ لیکن اگلی صبح آفت کا سامنا کرنا پڑا۔‘

<div class="paragraphs"><p>تصویر/آئی اے این ایس</p></div>

تصویر/آئی اے این ایس

 

’کیلاش-مانسروور یاترا‘ پر گئے آندھرا پردیش کے 26 زائرین کا ایک گروپ نیپال میں اچانک آنے والے سیلاب میں محفوظ ہے۔ تمام لوگ خیریت سے اپنے گھروں کو واپس آ گئے ہیں۔ سبھی لوگوں کے چہروں پر الگ ہی خوشی نظر آ رہی ہے۔ ایک زائر گاڈو الیوینی نے بتایا کہ ’’گزشتہ جمعہ کے روز ہم باگڈوگرا ایئرپورٹ سے کاٹھمنڈو پہنچے تھے۔ ہمیں امید تھی کہ ویزا فوراً مل جائے گا اور ہم آگے بڑھ سکیں گے، لیکن ہمیں 3 دن انتظار کرنا پڑا۔ آخرکار گزشتہ رات ویزا مل ہی گیا۔ جیسے ہی ویزا ملا، آندھرا سے آئے ہم سبھی 26 لوگ اور مغربی بنگال سے آئے 28 لوگ خوشی سے جھوم اٹھے۔‘‘ انہوں نے مزید بتایا کہ ’’ایک دن قبل جب ویزے میں تاخیر ہوئی تو سب بہت مایوس تھے، اور ڈر تھا کہ شاید ہم جا ہی نہ پائیں۔ اس لیے جب ویزا ملا تو ہماری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہا۔ لیکن اگلی صبح آفت کا سامنا کرنا پڑا۔‘‘

ایک دیگر زائر گاڈو تھاتینائیڈو نے کہا کہ ’’مانسرور کیلاش یاترا کے تحت اس ماہ کی 21 تاریخ کو رات تقریباً 9:30 بجے ہم میں سے 26 افراد بھوگاپورم انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے یاترا کے لیے روانہ ہوئے۔ حالانکہ چین سے ویزا ملنے میں تاخیر کی وجہ سے ہمیں کاٹھمنڈو میں 3 دن رکنا پڑا۔ ہمارے ساتھ ایشا فاؤنڈیشن کے ارکان اور مغربی بنگال کے گروپس کو بھی گروپ ویزا جاری کیا گیا تھا۔ ہم سب ایک ساتھ یاترا کر رہے تھے اور ویزا میں تاخیر ہوئی، اس لیے ہمیں کاٹھمنڈو میں 3 دن رکنا پڑا۔ اگلے دن رات تقریباً 8:30 بجے ویزا ملا، لیکن اگلی صبح آفت کا سامنا کرنا پڑا۔‘‘

وشاکھاپٹنم ڈسٹرکٹ لائیو اسٹاک ڈیولپمنٹ ایسوسی ایشن کے چیئرمین گاڈو وینکٹاپاڈو نے بتایا کہ ’’ہم آندھرا پردیش کے وشاکھاپٹنم ضلع کے بھیمونی پٹنم سے ہیں۔ ہم 21 تاریخ کو یہاں سے روانہ ہوئے، دہلی گئے اور پھر دہلی سے مانسرور یاترا کے لیے کاٹھمنڈو گئے۔ وہاں پہنچنے کے بعد چینی حکومت نے ہمارے ویزا میں 3 دنوں کی تاخیر کی، کیونکہ مانسرور کے راستے میں سیلاب آیا ہوا تھا۔ ایک طرح سے ہمیں لگتا ہے کہ یہ اچھا ہی ہوا، اگر تاخیر نہ ہوتی تو ہم متاثرہ علاقے میں پھنس جاتے۔ اس طرح ہم بچ گئے۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔