
ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد انظر
جھارکھنڈ سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر محمد انظر حسین کی پیدائش گریڈیہہ ضلع کے پنڈریا گاؤں میں 25 مئی 1988 کو ہوئی۔ ان کے والد کا نام ماسٹر محمد قمر الدین اور والدہ کا نام مجیدہ خاتون ہے۔ ان کی ابتدائی تعلیم گاؤں کے ہی ایک مدرسہ میں ہوئی اور پھر بارہویں تک کی تعلیم کے لیے بہار کے ضلع دربھنگہ کا سفر کیا۔ انھوں نے راجدھانی دہلی کے 2 تاریخی اداروں جامعہ ملیہ اسلامیہ اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیمی سند حاصل کی۔ بی اے (2009)، ایم اے (2012) اور بی ایڈ (2011) کی ڈگری انھیں جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ملی، جبکہ ایم فل (2014) اور پی ایچ ڈی (2019) انھوں نے جواہر لال نہرو یونیورسٹی سے کیا۔
محمد انظر کو بچپن سے ہی اردو سے محبت رہی ہے، اس لیے وہ طالب علمی کے زمانہ سے ہی اردو کی ترویج اور فروغ کے لیے کام کرتے رہے۔ انھیں ناول، ڈرامہ اور شاعری پڑھنے کا بہت شوق ہے، اس نے انھیں اردو سے قریب لانے میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ ’اردو میں اوپیرا نگاری‘ نام سے ان کی ایک کتاب بھی منظر عام پر آ چکی ہے۔ ایک کتاب انھوں نے ہندی میں ڈاکٹر زاہدالدیوان اور پرینکا کماری کے ساتھ مل کر ’ویاوہارِک انوواد: ایک ادھین‘ نام سے بھی لکھی ہے۔ دہلی میں رہتے ہوئے اردو کے تئیں ان کے عشق میں اضافہ ہوا اور انھوں نے جلد از جلد جھارکھنڈ پہنچ کر زبوں حالی کی شکار اس زبان کی خدمت کرنے کا منصوبہ بنایا۔ محمد انظر کو بڑی کامیابی اس وقت ہاتھ لگی جب ’آر کے پلس ٹو ہائی اسکول‘ میں انھیں بطور اردو استاذ تقرری ملی۔ وہ وقت تھا اور آج کا وقت ہے، انھوں نے اردو کی خدمت کا کوئی موقع ضائع نہیں کیا۔ جواں سال محمد انظر کا یہ سفر جاری ہے۔
سب سے پہلے ’آر کے پلس ٹو ہائی اسکول‘ کی تاریخ پر روشنی ڈالیں، اور یہ بھی بتائیں کہ یہاں کن درجات کی تعلیم دی جاتی ہے؟
’آر کے پلس ٹو ہائی اسکول‘ ریاست جھارکھنڈ میں جامتارا واقع نارائن پور کا مشہور تعلیمی ادارہ ہے۔ اس کا قیام 1957 میں ہوا اور یہاں نویں درجہ سے بارہویں درجہ کی تعلیم دی جاتی ہے۔ چونکہ اس علاقہ میں مسلم آبادی تقریباً 40 فیصد ہے، اس لیے اسکول میں مسلم طلبا و طالبات کی بڑی تعداد دیکھنے کو ملتی ہے، اور میں یہاں اردو سبجیکٹ پڑھاتے وقت یہ خیال رکھتا ہوں کہ طلبا اردو زبان سیکھنے کے ساتھ ساتھ اس کی تہذیب کو بھی سمجھیں۔
’آر کے پلس ٹو ہائی اسکول‘ کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو یہاں کے پہلے پرنسپل نند کشور سنگھ تھے، جنھوں نے جانفشانی کے ساتھ اس تعلیمی ادارہ کو ایک الگ شناخت بخشی۔ وہ اگست 1957 سے اگست 1983 تک پرنسپل رہے، اور ان کے بعد مرلی دھر پرساد، بلدیو سنہا، وندھیشوری پرساد، سوریہ کانت مشرا جیسی شخصیات نے پرنسپل کی ذمہ داری سنبھالی۔ موجودہ پرنسپل سوربھ مالویہ انہی کی وراثت کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ سوربھ مالویہ کا تعلق اتر پردیش سے ہے اور وہ الٰہ آباد یونیورسٹی کے طالب علم رہ چکے ہیں، اس لیے طلبا کی ضرورتوں کے ساتھ ساتھ اساتذہ کی سہولیات کا بھی خاص خیال رکھتے ہیں۔ اس اسکول کی ایک خاص بات یہ ہے کہ قومی شاہراہ کے کنارے واقع ہے، جس کی وجہ سے یہاں پہنچنا کسی کے لیے بھی بہت آسان ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ طلبا اور ان کے سرپرستوں کے لیے یہ اسکول پہلی پسند ہوتا ہے۔
اس اسکول میں فی الوقت مجموعی طور پر کتنے طلبا زیر تعلیم ہیں، ان میں مسلم طلبا کی تعداد کتنی ہوگی، اور اردو سبجیکٹ کا انتخاب کتنے طلبا نے کیا ہے؟
’آر کے پلس ٹو ہائی اسکول‘ میں طلباء و طالبات کی مجموعی تعداد فی الوقت تقریباً 3000 ہے، جس میں لڑکیوں کی تعداد زیادہ ہے۔ اگر مسلم طلبا و طالبات کی بات کریں، تو ان کی تعداد تقریباً 1400 ہوگی۔ جہاں تک اردو سبجیکٹ کے انتخاب کی بات ہے، نویں اور دسویں درجہ میں تقریباً سبھی مسلم طلبا و طالبات اردو پڑھنے میں دلچسپی لیتے ہیں۔ جب یہی بچے گیارہویں اور بارہویں میں پہنچتے ہیں تو اردو کی جگہ دوسرے سبجیکٹ کو منتخب کر لیتے ہیں، جس سے یقیناً میں فکر مند ہوں اور حالات کو بہتر بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔
نویں درجہ میں مسلم طلبا کی بڑی تعداد اردو سبجیکٹ کا انتخاب کرتی ہے، پھر آگے چل کر گیارہویں اور بارہویں میں صورت حال بدل جاتی ہے، ایسا کیوں؟ بطور اُردو استاد حالات کی بہتری کے لیے آپ کیا کر رہے ہیں؟
دراصل نویں اور دسویں درجہ میں مسلم طلبا و طالبات اردو سے کم رغبت کے باوجود اس سبجیکٹ کا انتخاب کرتے ہیں کیونکہ نمبر اچھے حاصل ہوتے ہیں۔ گیارہویں اور بارہویں درجہ میں ’اردو ادب‘ بچوں کو مشکل معلوم ہوتا ہے، نتیجۂ کار وہ زیادہ نمبر کی خواہش میں دوسرے سبجیکٹ کا انتخاب کر لیتے ہیں۔ کچھ اردو سے رغبت رکھنے والے طلبا بھی یہ سوچ کر اپنا راستہ بدل لیتے ہیں کہ اس زبان کا مستقبل تابناک نہیں ہے، یا پھر اس سے روزگار حاصل کرنے میں مشکلیں ہوں گی۔ حالانکہ یہ سوچ درست نہیں ہے، اس لیے میں طلبا کے ساتھ ساتھ ان کے سرپرستوں کو بھی حقیقت حال سے واقف کراتا ہوں، ان کے اندر بیداری پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ جو بچے دسویں سے گیارہویں درجہ میں قدم رکھتے ہیں، انھیں خاص طور سے مشفقانہ انداز میں باور کراتا ہوں کہ اردو پڑھ کر نہ صرف ایک تہذیب کو زندہ رکھنے کا کام کر سکتے ہیں، بلکہ روزگار کے نئے راستے بھی کھلیں گے۔
اچھی بات یہ ہے کہ گزرتے وقت کے ساتھ اردو کے تئیں عام لوگوں میں بیداری بڑھ رہی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہو رہا ہے کہ طلبا بھی اُردو کی اہمیت کو سمجھ رہے ہیں اور سنجیدگی کے ساتھ اس کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ہم جیسے اردو اساتذہ اسکولی سطح پر طلبا میں بیداری پھیلا رہے ہیں، اور کئی اردو کے سپاہی سماجی سطح پر اس زبان کو فروغ دینے میں لگے ہوئے ہیں۔ ایک طرف طلبا کے درمیان اردو سے متعلق مختلف انداز کے مقابلے کرائے جاتے ہیں، دوسری طرف گاؤں اور پنچایت سطح پر اردو کے تئیں لوگوں کو بیدار کیا جاتا ہے۔ اسمبلی کی سطح پر بھی مقابلہ جاتی تقاریب کا انعقاد اب عام ہو چکا ہے۔ یقیناً آنے والے دنوں میں اس کے مثبت نتائج دیکھنے کو ملیں گے۔
جھارکھنڈ میں اُردو میڈیم اسکولوں کی تعداد کتنی ہوگی؟ کیا وہاں کے بچے تعلیمی شعبہ میں ہندی یا انگریزی میڈیم اسکولوں کی طرح بہتر کارکردگی انجام دے پاتے ہیں؟
کچھ دنوں قبل کی ہی بات ہے، جب ہم لوگوں نے جھارکھنڈ کے وزیر برائے اقلیتی امور حفیظ الحسن صاحب کی مدد سے ایک ’کوئز کمپٹیشن‘ کا انعقاد کیا تھا۔ اس میں ہم لوگوں نے دیکھا کہ مسلم بچے، خصوصاً اردو پڑھنے والے بچوں کی کارکردگی کسی بھی ہندی میڈیم یا انگریزی میڈیم کے طلبا سے کم نہیں تھی۔ اس لیے یہ سوچنا کہ اردو پڑھنے والے یا اردو میڈیم اسکول میں پڑھائی کرنے والے طلبا کمزور ہوتے ہیں، قطعی درست نہیں ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ جھارکھنڈ میں اردو میڈیم اسکولوں کی تعداد انتہائی کم ہے۔ اس کی وجہ حکومت کی سرد مہری ہے۔ دہائیوں قبل جو اردو میڈیم اسکول کھلے تھے، آج بھی وہی اسکول چل رہے ہیں۔ اردو آبادی کے تناسب میں دیکھا جائے تو ہر ضلع اردو میڈیم اسکول کا طالب ہے۔ اس بارے میں اساتذہ اور اردو تنظیمیں حکومت سے لگاتار بات کر رہی ہیں، لیکن فی الحال کوئی پیش قدمی دیکھنے کو نہیں ملی ہے۔ دوسرے صوبوں کے مقابلے جھارکھنڈ میں اردو میڈیم اسکولوں کی تعداد فکر انگیز حد تک کم ہے۔ موجودہ حالات ایک طرح سے ’الارمنگ‘ ہیں اور اردو داں طبقہ اس بات کو اچھی طرح سمجھ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سبھی اردو کو اس کا جائز حق دلانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
آپ اُردو کے لیے کام کرنے والے مشہور ادارہ ’انجمن ترقی اردو‘ سے منسلک ہیں اور سنتھال پرگنہ کے انچارج ہونے کے ساتھ ساتھ گریڈیہہ ضلع کے صدر بھی ہیں؟ اس ناطے آپ اردو کے فروغ کے لیے کس طرح کی کوششیں کر رہے ہیں؟
چونکہ میں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے بہت وقت راجدھانی دہلی میں گزارا ہے، اس لیے اردو کے لیے سرگرم اور فعال رہنے والوں کو قریب سے دیکھا ہے۔ میں نے اردو کی فکر کرنے والے اساتذہ کی صحبت میں رہ کر اس زبان کو فروغ دینے کا ہنر بھی سیکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دہلی سے جھارکھنڈ واپسی کے بعد میں اردو کے کئی اداروں سے منسلک ہو کر اپنی خدمات انجام دیتا رہا ہوں۔ ’انجمن ترقی اردو‘ کے بینر تلے مختلف پروگراموں کے ذریعہ اردو آبادی کو بیدار کرنا ہمارے اہم مقاصد میں شامل رہا ہے۔ ہم لوگوں میں یہ جذبہ پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ جن سیاسی لیڈروں کو ووٹ دیتے ہیں، ان سے اردو کے بارے میں سوال پوچھنے کی ہمت بھی پیدا کریں۔ افسوسناک ہے کہ اردو جھارکھنڈ کی دوسری سرکاری زبان ہے، لیکن اسے ابھی تک حقیقی مقام حاصل نہیں ہوا ہے۔ حتیٰ کہ کئی ایسے پلس ٹو اسکولز ہیں جہاں اردو کے اساتذہ ہی نہیں ہیں۔ اردو اداروں کے ساتھ مل کر ہم اس سمت میں بھی کام کر رہے ہیں۔ اردو سے محبت کرنے والے تو جھارکھنڈ میں اردو اکیڈمی اور مدرسہ بورڈ قائم کرنے کی بھی کوششیں کر رہے ہیں، دعا کیجیے کہ جلد ہی کوئی خوشخبری ملے۔
اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ جھارکھنڈ میں اُردو زبان کی طرف توجہ نہیں دی گئی تو حالات تشویش ناک ہو سکتے ہیں۔ کیا یہ فکر کی بات نہیں کہ جھارکھنڈ ریاست بننے کے بعد سے آج تک اردو مترجمین کی بحالی نہیں ہوئی؟ کیا اس حقیقت پر پردہ ڈالا جا سکتا ہے کہ پرائمری سطح پر اردو اساتذہ کی بحالی دیگر تمام زبانوں کے مقابلے بہت کم ہوتی ہے؟ کیا یہ سچ نہیں کہ کالج و یونیورسٹی کی سطح پر اردو اساتذہ کی بحالی پچھلے کئی سالوں سے نہیں ہوئی؟ یہ سبھی سوالات انتہائی تلخ ہیں اور ’انجمن ترقی اردو، جھارکھنڈ‘ کا ایک رکن ہونے کے ناطے میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر حالات کو بدلنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہوں۔ ہماری حکومت کی سطح پر بات چیت بھی ہو رہی ہے اور انفرادی کوششیں بھی جاری ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔