انٹرویو

انٹرویو: ہر نئے چیلنج سے نئی سیکھ حاصل کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں کامران غنی صبا

کامران غنی صبا کا شعری مجموعہ ’پیامِ صبا‘ ادبی حلقوں میں تعریف بٹور چکا ہے۔ ترتیب کردہ کتاب ’منصور خوشتر: نئی صبح کا استعارہ‘ بھی ان کی ایک اہم کاوش ہے۔

<div class="paragraphs"><p>شعبۂ اردو کی طالبات کے ساتھ کامران غنی صباؔ</p></div>

شعبۂ اردو کی طالبات کے ساتھ کامران غنی صباؔ

 

کامران غنی کا مختصر تعارف

کامران غنی مظفر پور واقع ’بھیم راؤ امبیڈکر بہار یونیورسٹی‘ کے نتیشور کالج میں شعبۂ اردو سے منسلک ہیں۔ ان کی پیدائش 22 نومبر 1989 کو بہار کی راجدھانی پٹنہ میں ہوئی۔ ان کے والد ڈاکٹر ریحان غنی مشہور و معروف صحافی ہیں اور والدہ سلمیٰ بلخی سبکدوش اسکول ٹیچر۔ کامران غنی اپنے نانا پروفیسر حکیم سید شاہ علیم الدین بلخی فردوسی کو اپنا رول ماڈل مانتے ہیں، جو گورنمنٹ طبی کالج (پٹنہ) کے پرنسپل رہ چکے ہیں۔ غالباً نانا اور والدہ کی قربت نے ہی انھیں استاد بننے کی ترغیب دی، لیکن وہ مثالی استاد ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین شاعر بھی ہیں۔ قلمی نام ’کامران غنی صبا‘ ہے اور ان کا شعری مجموعہ ’پیامِ صبا‘ ادبی حلقوں میں تعریف بٹور چکا ہے۔ ترتیب کردہ کتاب ’منصور خوشتر: نئی صبح کا استعارہ‘ بھی ان کی ایک اہم کاوش ہے۔

Published: undefined

بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے ساتھ کامران غنی صبا

کامران غنی کے تعلیمی سفر کی بات کریں، تو میٹرک انھوں نے 2004 میں ’سلاؤ ہائی اسکول‘ (نالندہ) سے کیا اور انٹرمیڈیٹ 2006 میں ڈی ڈی ای، پٹنہ کالج سے۔ پٹنہ کالج سے ہی 2009 میں بی اے (اردو آنرس) کی سند حاصل کی، جبکہ ایم اے کی ڈگری اردو زبان میں تاریخی جواہر لال نہرو یونیورسٹی سے 2011 میں حاصل کی۔ کامران غنی کا رشتہ جامعہ ملیہ اسلامیہ سے بھی رہا، جہاں سے انھوں نے بی ایڈ کیا۔ طالب علمی کے زمانہ سے ہی درس و تدریس اور شاعری ان کے پسندیدہ مشاغل رہے ہیں۔ ان کی تخلیقی صلاحیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے کئی اداروں نے انھیں انعامات و اعزازات سے بھی نوازا ہے۔ کامران غنی کو ’اردو نیٹ جاپان‘ کی جانب سے 2013 میں ’بہترین قلم کار‘ منتخب کیا گیا اور 2016 میں ’اکبر رضا جمشید ایوارڈ‘ سے سرفراز کیا گیا۔ 2017 میں انھیں روزنامہ ’تاریخ انٹرنیشنل‘ (فرانس) کی طرف سے ’مصطفوی ایوارڈ برائے عالمی مضمون نویسی مقابلہ‘ سے نوازا گیا۔ اتنا ہی نہیں، 2017 میں ہی المنصور ٹرسٹ کی جانب سے ادبی خدمات کے اعتراف میں بھی انھیں اعزاز بخشا گیا۔

————————————————

Published: undefined

نتیشور کالج میں آپ کی بطور اسسٹنٹ پروفیسر تقرری کب ہوئی، اور اب تک کا تجربہ کیسا رہا ہے؟

18 مئی 2020 میری زندگی کا وہ یادگار دن تھا جب میں نے اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر شعبۂ اردو نتیشور کالج جوائن کیا۔ یہ زمانہ کووڈ-19 کا تھا اور کلاسز معطل تھیں۔ میری جوائننگ سے 7 سال قبل پروفیسر توقیر عالم (سابق پرو وائس چانسلر، مولانا مظہر الحق عربی و فارسی یونیورسٹی، پٹنہ) نتیشور کالج میں صدر شعبۂ اردو تھے، پھر اُن کا ٹرانسفر یونیورسٹی میں ہو گیا۔ تب سے نتیشور کالج میں اردو کا کوئی استاد نہیں تھا۔ جس وقت میں نے کالج جوائن کیا، شعبۂ اردو میں صرف ایک طالب علم زیر تعلیم تھا۔ آج الحمد للہ 150 سے زائد طلبا ہیں۔ اس وقت نتیشور کالج کا شعبۂ اردو مظفر پور اور مضافات کے طلبا کی پہلی پسند ہے۔

نتیشور کالج میں گزشتہ 5 سالوں کا تجربہ بہت ہی اطمینان بخش رہا۔ کالج انتظامیہ، پرنسپل، اساتذہ، طلبا و طالبات اور ان کے سرپرستوں نے توقع سے بڑھ کر محبت، حوصلہ اور اعتماد بخشا۔ جوائننگ کے وقت پروفیسر (ڈاکٹر) منوج کمار کالج کے پرنسپل تھے۔ انہوں نے جوائننگ کے کچھ ہی دنوں کے بعد مجھے کالج کا داخلہ انچارج اور ڈپٹی اگزامنیشن کنٹرولر بنا دیا۔ آپ کے لیے یہ جانکاری بھی خوشی کا باعث ہوگی کہ کالج میں ایک لائبریری ہے، جہاں اردو کے طلبا بڑی تعداد میں مطالعہ کرتے ہیں۔ اس لائبریری میں اردو کی کتابیں پہلے سے موجود تھیں، لیکن بیشتر کتابیں بہت پرانی اور بوسیدہ ہو چکی تھیں۔ میری گزارش پر پرنسپل صاحب نے 2 بار اردو کتابوں کی خریداری کی۔ پھر ایک دن مجھے بلایا اور کہا کہ ’’لائبریری سے سب سے زیادہ فائدہ آپ کے طلبا اٹھاتے ہیں، اس لیے آج سے لائبریری کا انچارج میں آپ کو بنا رہا ہوں۔‘‘

درس و تدریس کی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے شروع میں ہی ان اضافی ذمہ داریوں کو سنبھالنا میرے لیے ایک بڑا چیلنج ضرور تھا، لیکن ان ذمہ داریوں نے مجھے سیکھنے کے بہت سے مواقع دیے۔ اس وقت پروفیسر (ڈاکٹر) پرمود کمار ہمارے پرنسپل ہیں۔ زبان و ادب سے انہیں بھی گہری دلچسپی ہے۔ اکثر میری کلاسز میں آتے ہیں اور طلبا کی بھرپور حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ انہوں نے کالج میں آتے ہی مجھے اگزامنیشن کنٹرولر، کالج میگزین کا ایڈیٹر اور پلیسمنٹ سیل کا انچارج بنا دیا۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو جوائننگ کے بعد سے اب تک کا میرا سفر چینلجز سے بھرپور ضرور رہا، لیکن اس نے مجھے بہت کچھ سکھایا بھی ہے۔

نتیشور کالج میں شعبۂ اردو کے طلبا و طالبات

نتیشور کالج کی تاریخ پر مختصر روشنی ڈالیں، اس کالج کی کوئی ایسی بات جس نے آپ کو متاثر کیا ہو!

نتیشور کالج کا قیام 1970 میں عمل میں آیا۔ اس کے بانی سابق وزیر تعلیم اور مجاہد آزادی نتیشور پرساد سنگھ تھے۔ ان کا 2014 میں انتقال ہو گیا۔ وہ ایک عظیم سیاسی رہنما اور ماہر تعلیم تھے۔ انہوں نے نتیشور کالج کے علاوہ مظفرپور میں ہی رامیشور کالج، جنگ بہادر سنگھ کالج اور جیوچھ کالج جیسے تعلیمی ادارے قائم کیے۔ اس کالج کی سب سے خاص بات یہاں کا پرامن اور پرسکون ماحول ہے۔ شہر کے قلب میں ہونے کی وجہ سے آمد و رفت کی کوئی دشواری نہیں ہے۔ اساتذہ اور طلبا دونوں کے لیے کالج کا ماحول بہت ہی موافق ہے۔

ایک تقریب میں اعزاز حاصل کرتے ہوئے کامران غنی صبا

آپ نے تقریباً 7 سال مڈل اسکول میں بھی تدریسی ذمہ داری ادا کی ہے۔ اسکول اور کالج کے طلبا میں آپ نے کیا فرق محسوس کیا؟

اسکول اور کالج کے طلبا کی عمر، نفسیات اور معیار میں بہت فرق ہوتا ہے۔ اسکول میں پڑھانا میرے نزدیک زیادہ دشوار اور صبر آزما ہے کیونکہ وہاں ہمیں اپنے معیار سے بہت سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے۔ کالج میں آنے کے بعد طلبا بہت حد تک باشعور ہو چکے ہوتے ہیں۔ ادب کی تفہیم کے لیے ان کا ذہن تیار ہو چکا ہوتا ہے۔ تھوڑی سی کوشش سے ان میں ادب کا اچھا ذوق پیدا کیا جا سکتا ہے۔

ایک تقریب میں اعزاز حاصل کرتے ہوئے کامران غنی صبا

آپ سوشل میڈیا پر کافی متحرک نظر آتے ہیں، طلبا کے لیے آپ سوشل میڈیا کے استعمال کو کیسا سمجھتے ہیں؟ کیا سوشل میڈیا ان کی تعلیم پر اثرانداز ہوتا ہے؟

سوشل میڈیا طلبا کے لیے بہت مؤثر ہے، اگر وہ اس کا مثبت استعمال کریں۔ اگر صحیح استعمال نہ کیا جائے تو سوشل میڈیا سے زیادہ نقصان دہ کوئی دوسری چیز نہیں ہے۔ ایک اچھے استاد کی ذمہ داری ہے کہ وہ طلبا کو صرف کتابی علم ہی نہ دے بلکہ انہیں وقت کی رفتار کے ساتھ چلنے کے لیے تیار بھی کرے۔ سوشل میڈیا طلبا کی نفسیات پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔ سوشل میڈیا پر اچھی چیزیں بھی ہیں اور بری بھی۔ ادب کے طلبا سوشل میڈیا کے توسط سے ہم عصر شاعروں، افسانہ نگاروں، ناول نگاروں، صحافیوں، اساتذہ اور دانشوروں سے رابطہ اور استفادہ کر سکتے ہیں۔ میں ہر سمسٹر میں اپنی کلاس کے طلبا کو ایک پراجیکٹ دیتا ہوں کہ وہ سوشل میڈیا کے توسط سے کسی ادیب سے رابطہ کریں اور ان کا ٹیلی فونک یاتحریری انٹرویو لیں۔ اس بہانے طلبا ہم عصر تخلیق کاروں اور قلم کاروں کو پہچانتے ہیں، ان سے رابطہ کرتے ہیں، موبائل اور لیپ ٹاپ پر اردو لکھنا سیکھتے ہیں۔

ایک کتاب کی رسم اجرا تقریب میں شریک کامران غنی صبا (دائیں سے دوسرے)

شعر و ادب سے آپ خاصہ شغف رکھتے ہیں۔ موجودہ دور میں اُردو ادب کی صورت حال کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں؟

اگر ’صورت حال‘ سے مراد ’حال‘ کی صورت ہے، تو اطمینان بخش کہہ سکتا ہوں۔ اگر مستقبل کے زاویے سے سوچیں تو ذرا تشویش ہوتی ہے، کیونکہ تعلیمی اداروں میں اردو پڑھنے والوں کی تعداد میں کمی واقع ہو رہی ہے۔ اسکول اور کالج میں اردو تدریس کا معیار بہت تشفی بخش نہیں ہے۔ فکشن اور تنقید کے شعبوں میں نئی نسل کی نمائندگی بہت کم ہے۔ شاعری میں نئی نسل کی نمائندگی ہے بھی تو مستقبل میں کوئی بڑا نام ابھرتا ہوا نظر نہیں آتا ہے۔ مطالعہ کا رجحان کم ہوتا جا رہا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined