
وی ڈی ستیسن، تصویر آئی اے این ایس
کیرالہ میں ووٹ ڈالے جا چکے ہیں اور سبھی کو انتخابی نتائج کا انتظار ہے۔ اس انتخاب میں کانگریس کی قیادت والے یونائٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (یو ڈی اےف) کے نمایاں چہرہ وی ڈی ستیسن ایک ایسے لیڈر کے طور پر ابھرے ہیں جنہوں نے حالیہ دور کی سب سے جارحانہ انتخابی مہموں میں سے ایک کا بڑے تحمل کے ساتھ سامنا کیا۔ کے اے شاجی کے ساتھ گفتگو میں ستیسن نے ’شخصیت پرستی‘ کی سیاست، بائیں بازو کے بدلتے مزاج اور اس بات پر اپنے خیالات پیش کیے اور بتایا کہ انہیں کیوں لگتا ہے کیرالہ ایک فیصلہ کن سیاسی تبدیلی کے دہانے پر کھڑا ہے۔
Published: undefined
آپ نے اس انتخاب میں کسی ایک شخص کو ضرورت سے زیادہ ابھارنے کی کوشش پر تشویش ظاہر کی تھی۔ اس کے بارے میں بتائیے۔
ایسا کیرالہ میں پہلے کبھی نہیں ہوا۔ پوری ریاست میں 10 ہزار سے زیادہ ہورڈنگز پر ایک ہی شخص کی تصویر تھی۔ سڑکیں، چوراہے، ٹیلی ویژن، اخبارات، ڈیجیٹل پلیٹ فارم... ہر جگہ وہی چہرہ۔ یہ عام سیاسی تشہیر نہیں تھی۔ یہ سرکاری مشینری اور سیاسی وسائل کا استعمال کر کے کسی ایک شخص کو ہی سب کچھ ظاہر کرنے کی کوشش تھی۔ بی جے پی نے وزیر اعظم کے ہزاروں ہورڈنگز لگا کر اس کا جواب دینے کی کوشش کی، لیکن ہم نے الگ راستہ اختیار کیا۔ ہم نے 700 ہورڈنگز کے ذریعے اپنے قومی اور ریاستی سطح کے لیڈروں کا اجتماعی چہرہ عوام کے سامنے رکھا کیونکہ ہمارا ماننا ہے کہ سیاست اداروں اور لوگوں کے بارے میں ہوتی ہے، نہ کہ کسی ایک فرد کے بارے میں۔
آپ انتخابی نتائج کے حوالے سے پراعتماد نظر آ رہے ہیں۔ اس کی بنیاد کیا ہے؟
جھوٹے سروے کے ذریعے سوچ بدلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ گزشتہ لوک سبھا انتخاب میں ایسے ہی سروے میں کے. سُدھاکرن اور شفیع پرمبیل کی شکست کی پیش گوئی کی گئی تھی، لیکن دونوں جیت گئے۔ اس بار ہمیں بدنام کرنے پر پیسہ خرچ کیا جا رہا ہے۔ انتخابی نتیجہ اس کی حقیقت کھول دے گا۔ کانگریس اور یو ڈی ایف ذمہ دار حکومت بنائیں گے۔ ہم نیا کیرالہ بنائیں گے۔
آپ نے یہ بھی کہا ہے کہ سی پی ایم اور بی جے پی ایک دوسرے کے اتنے بڑے مخالف نہیں جتنا وہ دعویٰ کرتے ہیں۔ کیسے؟
سی پی ایم کو موجودہ سیاسی حالات میں بی جے پی کی ضرورت ہے۔ بی جے پی کو بھی سی پی ایم کی ناکامیوں سے فائدہ ہوتا ہے۔ یہ اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ کس طرح بیانیے تشکیل دیے جاتے ہیں اور کیسے حملے کیے جاتے ہیں۔ چند مثالوں پر غور کریں۔ فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ (ایف سی آر اے) کے معاملے میں اور عیسائی برادری کے کچھ طبقات کو سیاسی طور پر اپنے ساتھ جوڑنے کی کوششوں میں بی جے پی کی حکمت عملی بے نقاب ہو گئی۔ سبریمالا کے مسئلہ پر ان کا رویہ آخرکار پینارائی وجین کو سیاسی طور پر فائدہ پہنچانے والا ثابت ہوا۔ بدعنوانی کے معاملات میں اہم مواقع پر انہیں تحفظ فراہم کیا گیا۔ یعنی وہ مخالف ضرور نظر آتے ہیں، لیکن کچھ ایسی صورتیں بھی ہیں جہاں ان کے مفادات آپس میں ملتے ہیں۔ اس کا سب سے بڑا نقصان حقیقی اپوزیشن سیاست کو ہوتا ہے۔
آپ کو کہتے سنا گیا ہے کہ ’ہم ہی اصل بائیں بازو ہیں‘۔ اس کا کیا مطلب ہے؟
بائیں بازو سماجی انصاف، مساوات، کمزور طبقات کے تحفظ اور جمہوری حقوق کے لیے کھڑے ہوتے ہیں۔ آج ہم جو دیکھ رہے ہیں وہ ہے اقتدار کا ارتکاز، اختلافی آواز کو دبانا، شفافیت کی کمی اور عوام سے بڑھتی ہوئی دوری۔ اگر آپ دیکھیں کہ روزگار، ماحولیات اور حاشیے پر موجود طبقات کے مسائل کو مسلسل کون اٹھا رہا ہے، تو اکثر یہ کانگریس اور یو ڈی ایف ہی ہوتے ہیں۔ اس لحاظ سے آج ہم بائیں بازو کی سیاست کی اصل روح کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
کیا آپ اس بات سے متفق ہیں کہ اس بار کی انتخابی مہم صرف دکھاوے پر مبنی تھی؟
ہاں۔ سیاست کو صرف تماشہ اور امیج مینجمنٹ تک محدود کرنے کی کوشش کی گئی۔ بے روزگاری، ماحولیات کی خرابی، ساحلی علاقوں کے مسائل اور زرعی بحران جیسے حقیقی مسائل پر ضروری توجہ نہیں دی گئی۔ اس کے بجائے ہم نے زبردست پی آر اور جذباتی صف بندی دیکھی۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ آپ نے زیادہ جارحانہ انداز میں جواب نہیں دیا۔ کیا یہ جان بوجھ کر کیا گیا؟
ہاں۔ ہم نے طے کیا تھا کہ اشتعال انگیزی چاہے جیسی بھی ہو، ہم اس سطح تک نہیں گریں گے۔ ہم انتخابی مہم کے وقار اور ساکھ کو برقرار رکھنا چاہتے تھے۔ کیرالہ جیسی ریاست میں یہ بات اہمیت رکھتی ہے اور میرا ماننا ہے کہ لوگوں نے اس فرق کو پہچانا۔
موجودہ حکومت کے طرز حکمرانی پر آپ کی بنیادی تنقید کیا ہے؟
حکمرانی اب صرف اعلانات اور تشہیر تک محدود ہو گئی ہے۔ ریاست شدید مالی بحران سے گزر رہی ہے، قرض میں اضافہ ہوا ہے، فلاحی منصوبوں کی ادائیگی میں تاخیر ہو رہی ہے اور بڑے منصوبوں میں شفافیت کا فقدان ہے۔ کیرالہ صرف قرض پر مبنی ماڈلز اور اپنی شبیہ چمکانے کی کوششوں کے سہارے ترقی نہیں کر سکتا۔ ہمیں ذمہ دار حکمرانی کی ضرورت ہے۔
آپ نے کہا تھا کہ یہ انتخاب 2 پیسے والی طاقتوں کے خلاف جنگ ہے۔ کیا آپ اب بھی اس بات پر قائم ہیں؟
بالکل۔ سی پی ایم اور بی جے پی نے چند ہی مہینوں میں کروڑوں روپے خرچ کر دیے۔ ہمارے پاس اتنا پیسہ نہیں ہے، اس لیے ہم نے جمہوری صف بندی اور عوام سے براہ راست رابطے پر بھروسہ کیا۔ یہی یو ڈی ایف کی طاقت ہے۔ اس کے علاوہ کیرالہ میں کانگریس نے مکمل اتحاد کے ساتھ کام کیا۔ ہمارے اتحادیوں نے بہترین کارکردگی دکھائی۔ یہ واقعی ’ٹیم یو ڈی ایف‘ کی مشترکہ کوشش تھی۔
اب جب انتخابی شور تھم چکا ہے، تو آپ اس مہم کو کیسے دیکھتے ہیں؟
میں 20 سال سے اسمبلی کا رکن ہوں۔ کئی انتخابات دیکھے ہیں، لیکن کسی ایک شخص یا اس کی پارٹی کو نشانہ بنانے اور اسے اس حد تک بدنام کرنے والی مہم کبھی نہیں دیکھی۔ سی پی ایم نے یو ڈی ایف ٹیم کو، اور خاص طور پر مجھے نشانہ بنایا، کیونکہ میں نے ان کی ناکامیوں کو بے نقاب کرنے کی بھرپور مہم چلائی تھی۔ انہیں بی جے پی کا بھی ساتھ ملا۔ یہ کردار کشی کی منظم کوشش تھی، جسے پارٹی کی اعلیٰ قیادت کی حمایت حاصل تھی۔ کارکنوں کے درمیان سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے کے لیے ’کیپسول‘ (تیار پیغامات) تقسیم کیے گئے۔ 6 مہینوں تک ہر روز کم از کم 20 کارڈ اور دس ’ریلز‘ بنائے گئے، جن میں مجھے ذاتی طور پر نشانہ بنایا گیا۔ حقائق کے ساتھ جواب دینے پر مجھے ’جھوٹا‘ قرار دیا گیا۔ لیکن میں اسے اس طاقت کی وجہ سے برداشت کر پایا جو ایک چوتھائی صدی سے مجھے کانگریس کارکنوں اور شہری سماج کی حمایت سے ملی ہے۔ دوسری طرف وزیر اعلیٰ کی بڑی احتیاط سے تیار کی گئی شبیہ اس وقت متاثر ہونے لگی جب انہوں نے کولم میں پوچھے گئے سوالوں کے جواب دیے۔ لوگوں کو سمجھ آنے لگا کہ دکھاوے اور حقیقت میں کیا فرق ہوتا ہے۔
لوگوں کے مطابق اس انتخاب کا سب سے بڑا مسئلہ کیا تھا؟
کیا کیرالہ کسی ’ایک شخص کی پوجا‘ والی ثقافت، پیسے اور منظم پروپیگنڈے پر مبنی سیاست کے ساتھ رہ پائے گا، یا پھر وہ جمہوری اقدار کی واپسی کے لیے ووٹ دے گا؟ میرا خیال ہے کہ یہ انتخاب اسی کے بارے میں تھا۔ کیرالہ کو ایک خاص بائیں بازو کی روایت کا آخری قلعہ سمجھا جاتا رہا ہے، لیکن وہ روایت اس نئی ثقافت (کسی ایک شخص کے گرد شبیہ سازی اور پروپیگنڈے) کو ہمیشہ برداشت نہیں کر سکتی۔ مجھے یقین ہے کہ انتخابی نتائج سے واضح ہو جائے گا کہ لوگ یہ تبدیلی چاہتے ہیں۔
آپ کے منشور میں فلاحی منصوبوں کی توسیع کا وعدہ ہے۔ وسائل کا انتظام کیسے کریں گے؟
فلاحی کام ایک ذمہ داری ہے، لیکن اس کے پیچھے مضبوط مالی منصوبہ بندی ہونی چاہیے۔ موجودہ نظام میں کئی خامیاں اور وسائل کی غلط تقسیم ہے۔ اگر حکمرانی میں اصلاح ہو تو وسائل کا بہتر انتظام کیا جا سکتا ہے۔ ہمیں پائیدار سرمایہ کاری کی بھی ضرورت ہے۔
وائناڈ میں بازآبادکاری کا مسئلہ ایک سیاسی معاملہ کیوں بن گیا؟
بازآبادکاری بنیادی طور پر ریاستی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اس کے باوجود کئی جگہوں سے مدد ملی۔ کرناٹک کی کانگریس حکومت نے وزیر اعلیٰ ریلیف فنڈ میں تعاون کیا۔ اپوزیشن کے اراکین اسمبلی نے بھی تعاون کیا۔ فنڈ دستیاب ہے، لیکن اس کا صرف ایک چھوٹا حصہ ہی صحیح طریقے سے استعمال ہو پا رہا ہے۔ ٹاؤن شپ کی تعمیر میں تاخیر ہوئی۔ اس کا افتتاح انتخابی اعلامیہ سے عین قبل کیا گیا۔ یہاں تک کہ اب بھی لوگوں کو صحیح طریقے سے بسایا نہیں گیا ہے۔ ہمیں زمین کی نشاندہی اور خریداری میں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔ حتیٰ کہ حکومت کو بھی زمین طے کرنے میں ایک سال سے زیادہ وقت لگا۔ اس کے باوجود ہم آگے بڑھ رہے ہیں۔ آئی یو ایم ایل نے 53 گھر بنائے ہیں۔ ہم آل انڈیا کانگریس کمیٹی اور کیرالہ پردیش کانگریس کمیٹی کے فنڈ سے ان لوگوں کے لیے گھر بنانے کی تیاری کر رہے ہیں جو غیر محفوظ حالات میں رہ رہے ہیں۔ مقامی کانگریس رکن اسمبلی نے متاثرہ خاندانوں کے 143 طلبا کی تعلیم کا راستہ ہموار کیا ہے۔ دراصل ہم سرکاری بازآبادکاری کی کمیوں کو پورا کر رہے ہیں۔
اگر آپ حکومت بناتے ہیں تو آپ کی فوری ترجیحات کیا ہوں گی؟
سب سے پہلی ترجیح ہوگی حکمرانی میں اعتماد بحال کرنا، مالی شفافیت اور فلاحی منصوبوں کی بروقت فراہمی کو یقینی بنانا۔ دوسری، یہ یقینی بنانا کہ ادارے آزادانہ طور پر کام کریں۔ عوام کا اعتماد بحال کیا جانا چاہیے۔ تیسری ترجیح ہوگی معاشی اور ماحولیاتی پائیداری کو یقینی بنانے کے لیے بڑے منصوبوں کا جائزہ لینا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined