عالمی خبریں

امریکی انتخابات: عالمی رہنماؤں نے ڈیموکریٹس کی جیت کا خیرمقدم کیا، ٹرمپ کے ناقدین پُرامید

امریکی مڈٹرم انتخابات میں ڈیموکریٹس کی کامیابی پر اسپین، ناروے اور جنوبی افریقہ کے رہنماؤں نے ردِعمل دیا۔ بعد میں ریپبلکنز نے مشکل رات تسلیم کی، جبکہ ڈیموکریٹک حامیوں نے جشن منایا

<div class="paragraphs"><p>Getty Images</p></div>

Getty Images

 
Salwan Georges

امریکی مڈٹرم انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کی کامیابی کے بعد صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ناقد کئی عالمی رہنماؤں نے نتائج کا خیرمقدم کیا ہے۔ ڈیموکریٹس نے سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان، دونوں میں کامیابی حاصل کی، جس کے بعد ٹرمپ کے باقی دورِ صدارت میں کانگریس کا کنٹرول ان کے پاس رہے گا۔

اسپین کے بائیں بازو کے وزیرِاعظم پیڈرو سانچیز نے کہا کہ امریکی ووٹروں نے نفرت، موسمیاتی تبدیلی سے انکار اور مراعات یافتہ اشرافیہ کے خلاف ووٹ دیا ہے۔

ناروے کے وزیرِاعظم یوناس گار اسٹور نے کہا کہ امریکہ میں اب ایسی آوازیں ابھر رہی ہیں جن کے خیالات اوسلو کے اصولوں سے زیادہ میل کھاتے ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں ٹرمپ نے نوبیل امن انعام نہ ملنے پر ناروے کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رامافوسا نے کہا کہ ان انتخابات سے بین الاقوامی تعلقات میں ایک نئے دور کا آغاز ہو سکتا ہے۔ ٹرمپ جنوبی افریقہ پر سفید فام لوگوں کے خلاف نسل کشی کا الزام لگا چکے ہیں۔

یورپی پارلیمان کی نائب صدر کرسٹل شالڈیموس نے نتائج پر محتاط امید ظاہر کی۔ انہیں توقع ہے کہ اس سے یوکرین کے لیے زیادہ حمایت مل سکتی ہے۔

ریپبلکن رہنماؤں نے بھی ملک بھر میں اپنی جماعت کے لیے انتخابی رات کو مشکل قرار دیا۔ ایوانِ نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن نے نتائج پر مایوسی ظاہر کی، تاہم کہا کہ اس سے ان کا حوصلہ کم نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایوان میں اکثریت برقرار رکھنے کے لیے ریپبلکنز کو مڈٹرم انتخابات کی سو سال سے زیادہ پرانی روایت بدلنے کی ضرورت تھی۔

ریپبلکن سینیٹر رون جانسن نے بی بی سی ریڈیو 4 سے کہا کہ ایران جنگ اور ایندھن کی بڑھتی قیمتیں لوگوں کے ذہنوں پر بھاری پڑ رہی ہیں۔ وہ 2011 سے وسکونسن کی نمائندگی کر رہے ہیں، لیکن اس بار انتخاب نہیں لڑے۔ ٹیکساس میں سینیٹ کی اہم نشست ہارنے والے کین پیکسٹن نے کہا کہ ملک بھر میں ریپبلکنز کے لیے رات مشکل رہی، تاہم یہ ابھی ختم نہیں ہوا۔

ٹرمپ نے اس سے پہلے شکست کا ذمہ دار امیدواروں کو ٹھہرایا تھا۔ بی بی سی کے مطابق ان میں سے کچھ امیدواروں کا انتخاب خود صدر نے کیا تھا۔ ایک ریپبلکن کارکن نے بی بی سی کو بتایا کہ نتیجہ ان کی توقع سے بھی برا تھا اور اسے تباہی قرار دیا۔

دوسری جانب، ڈیموکریٹک حامیوں نے لاس ویگاس، پورٹلینڈ اور آسٹن سمیت مختلف شہروں میں انتخابی اجتماعات کے دوران جیت کا جشن منایا۔ آسٹن میں ٹیکساس کے ڈیموکریٹک سینیٹ امیدوار جیمز تالاریکو کی کامیابی کے میڈیا اندازوں کے بعد حامیوں نے خوشی منائی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔