
Getty Images
پیرس: فرانس میں اسکولوں کی خستہ حالی، اساتذہ کی کمی اور جماعتوں میں طلبہ کی بڑھتی تعداد کے خلاف شروع ہونے والا احتجاج ملک کے کئی حصوں تک پھیل گیا ہے۔ ہزاروں طلبہ نے جمعہ کو بھی سڑکوں پر نکل کر مظاہرے کیے، جس کے دوران بعض مقامات پر احتجاج پرتشدد ہوگیا اور پولیس کو حالات پر قابو پانے کے لیے کارروائی کرنا پڑی۔
رپورٹس کے مطابق احتجاج کے باعث ملک بھر میں 500 سے زائد اسکولوں کا کام کاج متاثر ہوا ہے۔ مظاہرین نے مختلف شہروں میں نعرے بازی کی، جبکہ بعض مقامات پر رکاوٹیں کھڑی کی گئیں اور انہیں آگ لگا دی گئی۔ پولیس کے کچھ گاڑیوں کو بھی آگ لگائے جانے کی اطلاعات ہیں۔
فرانس کے دارالحکومت پیرس سمیت کئی علاقوں میں حالات کو قابو میں رکھنے کے لیے دنگا مخالف پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی۔ بھارتی وقت کے مطابق جمعہ کی دوپہر سامنے آنے والی تصاویر میں پینٹن کے علاقے میں جلتی ہوئی رکاوٹیں، پیرس کی سڑکوں پر آگ کے حوالے کیے گئے کچرے کے ڈبے اور مظاہرین کے درمیان موجود دنگا مخالف پولیس اہلکار نظر آئے۔
فرانسیسی حکام کے مطابق احتجاج کے دوران کم از کم 65 سرکاری ملازمین اور 305 پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں، جبکہ تقریباً 2,000 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مظاہروں کے دوران بعض مقامات پر امن و امان کی صورتحال سنگین ہوگئی۔
اس احتجاج کی بنیادی وجوہات میں فرانس کے اسکولوں میں اساتذہ کی کمی، کلاس رومز میں طلبہ کی زیادہ تعداد اور کئی اسکولوں کی خستہ حال عمارتیں شامل ہیں۔ مظاہرے رواں ہفتے کے آغاز میں پیرس سے شروع ہوئے تھے، تاہم بعد میں ملک کے دیگر علاقوں میں بھی پھیل گئے۔
پیرس میں احتجاج کرنے والے ایک 16 سالہ طالب علم نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ غصے میں ہیں۔ اس کے مطابق فرانس کے اسکولوں میں تبدیلی لانے کے لیے حکومت تک اپنی آواز مضبوط انداز میں پہنچانا ضروری ہے۔
فرانس کے وزیر انصاف جیرالڈ دارمانین نے مظاہروں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ہائی اسکول کے طلبہ کے احتجاج کی صورتحال اب عوامی نظم و ضبط میں خلل کے مرحلے تک پہنچ گئی ہے۔
حالیہ مظاہروں نے فرانس کے تعلیمی نظام میں بنیادی سہولتوں، اساتذہ کی دستیابی اور اسکولوں کی عمارتوں کی حالت سے متعلق مسائل کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔