
امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ (فوٹو سوشل میڈیا)
امریکہ کی سپریم کورٹ نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اس صدارتی حکم کو کالعدم قرار دے دیا ہے جس کا مقصد پیدائش پر مبنی شہریت کے آئینی حق کو محدود کرنا تھا۔ عدالت نے 6 کے مقابلے میں 3 ججوں کی اکثریت سے سنائے گئے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ امریکی آئین کی چودہویں ترمیم کے تحت امریکہ میں پیدا ہونے والے تقریباً تمام بچوں کو پیدائش کے ساتھ ہی امریکی شہریت حاصل ہوتی ہے، خواہ ان کے والدین غیر قانونی طور پر ملک میں موجود ہوں یا عارضی ویزے پر مقیم ہوں۔
Published: undefined
یہ فیصلہ ٹرمپ انتظامیہ کی امیگریشن پالیسی کے لیے ایک بڑا دھچکا تصور کیا جا رہا ہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے دوسرے صدارتی دور کے پہلے ہی دن، 20 جنوری 2025 کو }امریکی شہریت کے مفہوم اور قدر کے تحفظ‘ کے عنوان سے ایک صدارتی حکم جاری کیا تھا۔ اس حکم کے مطابق امریکہ میں غیر قانونی طور پر مقیم افراد یا طالب علم، ملازمت، سیاحت اور دیگر عارضی ویزوں پر رہنے والے غیر ملکیوں کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں کو خودکار طور پر امریکی شہریت نہ دینے کی تجویز پیش کی گئی تھی۔
اس حکم کے اجرا کے فوراً بعد شہری حقوق کی تنظیموں، تارکین وطن کے حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں اور متعدد متاثرہ خاندانوں نے عدالتوں سے رجوع کیا۔ مختلف وفاقی عدالتوں نے اس حکم پر عمل درآمد روک دیا تھا، جس کے باعث یہ کبھی نافذ نہیں ہو سکا۔ بعد ازاں معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچا، جہاں عدالت عظمیٰ نے بھی نچلی عدالتوں کے مؤقف کی توثیق کرتے ہوئے صدارتی حکم کو آئین سے متصادم قرار دیا۔
Published: undefined
امریکی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جان جی رابرٹس جونیئر نے اکثریتی فیصلہ تحریر کرتے ہوئے کہا کہ امریکی آئین کی چودہویں ترمیم اس بات کی ضمانت دیتی ہے کہ امریکہ کی سرزمین پر پیدا ہونے والے تقریباً تمام افراد کو پیدائش کے ساتھ ہی شہریت حاصل ہوگی، چاہے ان کے والدین غیر قانونی طور پر امریکہ میں موجود ہوں یا عارضی طور پر وہاں مقیم ہوں۔ انہوں نے اپنے فیصلے میں کہا کہ شہریت بنیادی حقوق کی بنیاد ہے، کیونکہ یہی حق افراد کو ملک کے سیاسی اور سماجی نظام میں مکمل شرکت کا موقع فراہم کرتا ہے۔ ان کے مطابق آئین سازوں نے اس تحفظ کو ہر ایسے آزاد فرد تک وسعت دی تھی جو امریکی سرزمین پر پیدا ہو، اور عدالت آج بھی اسی آئینی وعدے کو برقرار رکھ رہی ہے۔
یہ مقدمہ امریکہ میں امیگریشن اور شہریت سے متعلق حالیہ برسوں کے اہم ترین آئینی تنازعات میں شمار کیا جا رہا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق اس فیصلے نے ایک بار پھر اس اصول کی توثیق کر دی ہے کہ صرف صدارتی حکم کے ذریعے آئین میں دیے گئے پیدائش پر مبنی شہریت کے حق کو محدود نہیں کیا جا سکتا۔ امریکہ ان تقریباً 30 ممالک میں شامل ہے جہاں ملک کی سرزمین پر پیدا ہونے والے تقریباً تمام بچوں کو پیدائش کے ساتھ ہی شہریت حاصل ہو جاتی ہے، اور سپریم کورٹ کے تازہ فیصلے نے اس آئینی روایت کو برقرار رکھا ہے۔
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined